حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 361 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 361

حیات احمد جلد دوم حصہ سوم ہے جیسے اخویم مولوی نورالدین صاحب اور اخویم مولوی برہان الدین صاحب وغیرہ اور مولوی محمد حسین صاحب ایڈیٹر اشاعۃ السنہ نے ہمدردی کی راہ سے میرے پاس بھیجا کہ ” آپ نے شادی کی ہے اور مجھے حکیم محمد شریف کی زبانی معلوم ہوا ہے کہ آپ بباعث سخت کمزوری کے اس لائق نہ تھے۔اگر یہ امر آپ کی روحانی قوت سے تعلق رکھتا ہے تو اس میں اعتراض نہیں کر سکتا کیونکہ میں اولیاء اللہ کے خوارق اور روحانی قوتوں کا منکر نہیں ورنہ ایک بڑے فکر کی بات ہے ایسا نہ ہو کہ کوئی ابتلا پیش آوے“ یہ ایک چھوٹے سے کاغذ پر رقعہ ہے جو اب تک اتفاقا میرے پاس محفوظ رہا ہے اور میری جماعت کے پچاس کے قریب دوستوں نے بچشم خود اسے دیکھ لیا اور خط پہچان لیا ہے۔اور مجھے امید نہیں کہ مولوی محمد حسین صاحب اس سے انکار کریں۔اور اگر کریں تو پھر حلف دینے سے حقیقت کھل جائے گی۔غرض اس ابتلا کے وقت میں نے جناب الہی میں دعا کی اور مجھے اس نے دفع مرض کے لئے اپنے الہام کے ذریعہ سے دوائیں بتلائیں اور میں نے کشفی طور پر دیکھا کہ ایک فرشتہ وہ دوا ئیں میرے منہ میں ڈال رہا ہے چنانچہ دوا میں نے طیار کی اور اس میں خدا نے اس قدر برکت ڈال دی کہ میں نے دلی یقین سے معلوم کیا کہ وہ پر صحت طاقت جو ایک پورے تندرست انسان کو دنیا میں مل سکتی ہے وہ مجھے دی گئی اور چار لڑ کے مجھے عطا کئے گئے۔اگر دنیا اس بات کو مبالغہ نہ بجھتی تو میں اس جگہ اس واقعہ حقہ کو جو اعجازی رنگ میں ہمیشہ کے لئے مجھے عطا کیا گیا بہ تفصیل بیان کرتا تا معلوم ہوتا کہ ہمارے قادر قیوم کے نشان ہر رنگ میں ظہور میں آتے ہیں اور ہر رنگ میں اپنے خاص لوگوں کو وہ خصوصیت عطا کرتا ہے جس میں دنیا کے لوگ شریک نہیں ہو سکتے میں اُس زمانہ میں اپنی کمزوری کی وجہ سے ایک بچہ کی طرح تھا اور پھر اپنے تئیں خدا داد طاقت میں پچاس مرد کے قائم مقام دیکھا اس لئے میرا یقین ہے کہ ہمارا خدا ہر چیز پر قادر ہے۔“ تریاق القلوب صفحه ۳۴ تا ۳۶ - روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۰۱ تا ۲۰۴)