حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 360 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 360

حیات احمد جلد دوم حصہ سوم ضروریات کا رفع کرنا میرے ذمہ رہے گا۔سو تم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس نے اپنے وعدہ کے موافق اس شادی کے بعد ہر ایک بار شادی سے مجھے سبکدوش رکھا اور مجھے بہت آرام پہنچایا کوئی باپ دنیا میں کسی بیٹے کی پرورش نہیں کرتا جیسا کہ اس نے میری کی۔اور کوئی والدہ پوری ہشیاری سے دن رات اپنے بچہ کی ایسی خبر نہیں رکھتی جیسا کہ اس نے میری رکھی اور جیسا کہ اس نے بہت عرصہ پہلے براہین احمدیہ میں یہ وعدہ کیا تھا کہ یا اَحْمَدُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ ایسا ہی وہ بجالا یا۔معاش کا غم کرنے کے لئے کوئی گھڑی اس نے میرے لئے خالی نہ رکھی اور خانہ داری کے مہمات کے لئے کوئی اضطراب اس نے میرے نزدیک آنے نہ دیا۔ایک ابتلا مجھ کو اس شادی کے وقت یہ پیش آیا کہ باعث اس کے کہ میرا دل اور دماغ سخت کمزور تھا اور میں بہت سے امراض کا نشانہ رہ چکا تھا اور دو مرضیں یعنی ذیا بیطیس اور در دسر مع دورانِ سر قدیم سے میرے شامل حال تھیں جن کے ساتھ بعض اوقات تشیخ قلب بھی تھا اس لئے میری حالت مردمی کالعدم تھی اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی اس لئے میری اس شادی پر میرے بعض دوستوں نے افسوس کیا اور ایک خط جس کو میں نے اپنی جماعت کے بہت سے معزز لوگوں کو دکھلا دیا بقیہ نوٹ تھی سُبْحَانَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى زَادَ مَجْدَكَ يَنْقَطِعُ ابَاؤُكَ وَيُبْدَءُ مِنْكَ يعنى سب پاکیاں خدا کے لئے ہیں جو نہایت برکت والا اور عالی ذات ہے اس نے تیری بزرگی کو زیادہ کیا اب سے تیرے باپ دادے کا ذکر منقطع ہو گا اور ابتدا خاندان کا تجھ سے کیا جائے گا۔یعنی جس طرح ابراہیم علیہ السلام اپنے نئے خاندان کا بانی ہوا ایسا ہی تو بھی ہوگا کیونکہ الہام میں بار بار اس عاجز کا نام ابراہیم رکھا گیا ہے جیسا کہ براہین صفحہ ۵۶۱ میں یہ الہام ہے۔سَلَامٌ عَلَى إِبْرَاهِيْمَ صَافَيْنَاهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ تَفَرَّدْنَا بِذَالِكَ فَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِيْمَ مُصَلَّی - یعنی اے ابراہیم تجھ پر سلام ہم نے ابراہیم سے صافی محبت کی اور اس کو غم سے نجات دی۔ہم ہی اس بات سے خاص ہیں پس اگر تم مقام اصطفاء چاہتے ہو تو تم اس مقام پر اپنا قدم عبودیت رکھو جو ابراہیم یعنی اس عاجز کا مقام ہے۔منہ