حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 344
حیات احمد ۳۴۴ جلد دوم حصہ سوم کہ وہ بیوی سادات کی قوم میں سے ہو گی“۔( نزول المسیح صفحہ ۱۴۶ و ۱۴۷۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۵۲۵،۵۲۴) قریباً اٹھارہ برس (۱۸۸۱ء) سے ایک یہ پیشگوئی ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الصِّهْرَوَ النَّسَبَ - ترجمہ - وہ خدا سچا خدا ہے جس نے تمہارا دامادی کا تعلق ایک شریف قوم سے جو سید تھے کیا اور خود تمہاری نسب کو شریف بنایا جو فارسی خاندان اور سادات سے معجون مرکب ہے۔اس پیشگوئی کو دوسرے الہامات میں اور بھی تصریح سے بیان کیا گیا ہے۔یہاں تک کہ اس شہر کا نام بھی لیا گیا تھا جو دہلی ہے۔اور یہ پیشگوئی بہت سے لوگوں کو سنائی گئی تھی جن میں سے ایک شیخ حامد علی اور میاں جان محمد اور بعض دوسرے دوست ہیں اور ایسا ہی ہندوؤں میں شرمیت اور ملا وامل کھتریاں ساکنان قادیان کو قبل از وقت یہ پیشگوئی بتلائی گئی تھی۔اور جیسا کہ لکھا تھا ایسا ہی ظہور میں آیا کیونکہ بغیر سابق تعلقات قرابت اور رشتہ کے دہلی میں ایک شریف اور مشہور خاندان سیادت میں میری شادی ہو گئی اور یہ خاندان خواجہ میر درد کی لڑکی کی اولاد میں سے ہے جو مشاہیرا کا بر سادات دہلی میں سے ہے۔جن کو سلطنت چغتائی کی طرف سے بہت سے دیہات بطور جاگیر عطا ہوئے تھے۔اور اب تک اس لے حاشیہ :۔ہمارے خاندان کی قومیت ظاہر ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ قوم کے برلاس مغل ہیں اور ہمیشہ اس خاندان کے اکابرا میرا اور والیان ملک رہے ہیں اور سمرقند سے کسی تفرقہ کی وجہ سے بابر بادشاہ کے وقت میں پنجاب میں آئے اور اس علاقہ کی ایک بڑی حکومت ان کو ملی اور کئی سو دیہات ان کی ملکیت کے تھے جو آخر کم ہوتے ہوتے ۸۴ رہ گئے اور سکھوں کے زمانہ میں وہ بھی ہاتھ سے جاتے رہے اور پانچ گاؤں باقی رہ گئے اور پھر ایک گاؤں ان میں سے جس کا نام بہادر حسین کیا تھا جس کو حسین نامی ایک بزرگ نے آباد کیا تھا انگریزی سلطنت کے عہد میں ہاتھ سے جاتا رہا کیونکہ ہم نے خود اپنی غفلت سے ایک مدت تک اس گاؤں سے کچھ وصول نہیں کیا تھا اور جیسا کہ مشہور چلا آتا ہے ہماری قوم کو سادات سے یہ گاؤں بٹالہ سے شمالی طرف سے بفا صلہ تین کوس واقعہ ہے۔منہ