حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 343
حیات احمد ۳۴۳ جلد دوم حصہ سوم عبادت اور فکر دین میں گزارتے تھے کہ ۱۸۸۱ء میں آپ پر دوسری شادی اور اس کے ثمرات کے متعلق وحی کا آغاز ہوا۔وو عرصہ تخمیناً اٹھارہ برس کا ہوا ہے کہ میں نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر چند آدمیوں کو ہندوؤں اور مسلمانوں میں سے اس بات کی خبر دی کہ خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ إِنَّا نُبِشِّرُكَ بِغُلَامٍ حَسِین یعنی ہم تجھے ایک حسین لڑکے کے عطا کرنے کی خوشخبری دیتے ہیں۔میں نے یہ الہام ایک شخص حافظ نور احمد امرتسری کو سنایا جواب تک زندہ ہے۔اور بباعث میرے دعوی مسیحیت کے مخالفوں میں سے ہے۔اور نیز یہی الہام شیخ حامد علی کو جو میرے پاس رہتا تھا سنایا۔اور دو ہندوؤں کو جو آمد ورفت رکھتے تھے۔یعنی شرمپت اور ملا وامل ساکنان قادیاں کو بھی سنایا۔اور لوگوں نے اس الہام سے تعجب کیا۔کیونکہ میری پہلی بیوی کو عرصہ میں سال سے اولاد ہوئی موقوف ہو چکی تھی اور دوسری کوئی بیوی نہ تھی۔لیکن حافظ نور احمد نے کہا کہ خدا کی قدرت سے کیا تعجب کہ وہ لڑکا دے۔اس سے تقریباً تین برس کے بعد دہلی میں میری شادی ہوئی۔اور خدا نے وہ لڑکا بھی دیا۔اور تین اور عطا کئے۔“ " تریاق القلوب صفحه ۳۴۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۰۱٬۲۰۰) أَشْكُرْ نِعْمَتِي رَأَيْتَ خَدِيجَتِي ( براہین احمدیہ صفحہ ۵۵۸ - روحانی خزائن جلد اصفحه ۶۶۶) ترجمہ۔میرا شکر کر کہ تو نے میری خدیجہ کو پایا۔یہ ایک بشارت کئی سال پہلے اُس نکاح کی طرف تھی۔جو سادات کے گھر میں دہلی میں ہوا۔اور خدیجہ اس لئے میری بیوی کا نام رکھا کہ وہ ایک مبارک نسل کی ماں ہے۔جیسا کہ اس جگہ بھی مبارک نسل کا وعدہ تھا۔اور نیز یہ اس طرف اشارہ تھا اب فوت ہو چکا ہے۔(عرفانی)