حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 345 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 345

حیات احمد ۳۴۵ جلد دوم حصہ سوم جاگیر میں سے تقسیم ہو کر اس خاندان کے تمام لوگ جو خواجہ میر درد کے ورثاء ہیں اپنے اپنے حصے پاتے ہیں۔اب ظاہر ہے کہ یہ خاندان دہلوی جس سے دامادی کا مجھے تعلق ہے صرف اسی وجہ سے فضیلت نہیں رکھتا کہ وہ اہل بیت اور سندی سادات ہیں بلکہ اس وجہ سے بھی فضلیت رکھتا ہے کہ یہ لوگ دختر زادہ خواجہ میر درد ہیں اور دہلی میں یہ خاندان سلطنت چغتائیہ کے زمانہ میں اپنی صحت نسب اور شہرت خاندان سیادت اور نجابت اور شرافت میں ایسا مشہور رہا ہے کہ اسی عظمت اور شہرت اور بزرگی خاندان سیادت کی وجہ سے بعض نوابوں نے ان کو اپنی لڑکیاں دیں جیسا کہ ریاست لوہارو کا بقیہ حاشیہ:۔سے تعلق رہا ہے کہ بعض دادیاں ہماری شریف اور مشہور خاندان سادات سے ہیں لیکن مغل قوم کے ہونے کے بارے میں خدا تعالیٰ کے الہام نے مخالفت کی ہے جیسا کہ براہین احمدیہ صفحہ ۲۴۲ میں یہ الہام ہے۔خُذُوا التَّوْحِيْدَ التَّوْحِيْدَ يَا ابْنَاءَ الْفَارِس یعنی تو حید کو پکڑ وتو حید کو پکڑ والے فارس کے بیٹو۔اس الہام سے صریح طور پر سمجھا جاتا ہے کہ ہمارے بزرگ دراصل بنی فارس ہیں۔اور قریب قیاس ہے کہ میرزا کا خطاب ان کو کسی بادشاہ کی طرف سے بطور لقب کے دیا گیا ہو۔لیکن الہام نے اس بات کا انکار نہیں کیا کہ سلسلہ مادری کی طرف سے ہمارا خاندان سادات سے ملتا ہے بلکہ الہامات میں اس کی تصدیق ہے اور ایسا ہی بعض کشوف میں بھی اس کی تصدیق پائی جاتی ہے۔اس جگہ یہ عجیب نکتہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے یہ ارادہ فرمایا کہ سادات کی اولاد کو کثرت سے دنیا میں بڑھاوے تو ایک شریف عورت فارسی الاصل کو یعنی شہر بانو کو ان کی دادی بنایا اور اس سے اہلِ بیت اور فارسی خاندان کے خون کو باہم ملا دیا اور ایسا ہی اس جگہ بھی جب خدا تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ اس عاجز کو دنیا کی اصلاح کے لئے پیدا کرے اور بہت سی اولا د اور ذُریت مجھ سے دنیا میں پھیلا دے جیسا کہ اس کے اُس الہام میں ہے جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۴۹۰ میں درج ہے۔تو پھر دوبارہ اس نے فارسی خاندان اور سادات کے خون کو باہم ملایا اور پھر میری اولاد کے لئے تیسری مرتبہ ان دونوں خونوں کو ملایا۔صرف فرق یہ رہا کہ حسینی خاندان کے قائم کرنے کے وقت مرد یعنی امام حسین اولاد فاطمہ میں سے تھا اور اس جگہ عورت یعنی میری بیوی اولا د فاطمہ میں سے یعنی سید ہے جس کا نام بجائے شہر بانو کے نصرت جہاں بیگم ہے۔منہ