حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 320
حیات احمد جلد دوم حصہ سوم کر کے دیر تک ہاتھ کو پکڑ رہے اللہ تعالیٰ ان کی تربت پر رحمت کے پھول برستا رہے۔آمین (عرفانی) تاریخی اصلاح اس نشان کے ظہور کی تاریخ متعلق ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت منشی صاحب رضی اللہ عنہ کو کچھ سہو ہوا ہے اپنی روایت مندرجہ سیرت المہدی حصہ اوّل ( جس کو میں نے اوپر درج کیا۔بقیہ حاشیہ: کی زبانی وہ واقعہ قلمبند کیا ہے جو حضرت مسیح موعود کے گرتہ پر چھینٹے پڑنے کے متعلق ہے۔ضرت صاحب نے میاں عبداللہ صاحب کے اصرار پر اُن کو یہ گر نہ عنایت کرتے ہوئے ہدایت فرمائی تھی کہ یہ گر تہ میاں عبداللہ صاحب کی وفات پر ان کے ساتھ دفن کر دیا جاوے تا کہ بعد میں کسی زمانہ میں شرک کا موجب نہ بنے سو آج میاں عبداللہ صاحب کی وفات پر وہ ان کے ساتھ دفن کر دیا گیا۔مجھے یہ کرتہ میاں عبداللہ صاحب نے اپنی زندگی میں کئی دفعہ دکھایا تھا اور میں نے وہ چھینٹے بھی دیکھے تھے۔جو خدائی ہاتھ کی روشنائی سے اس پر پڑے تھے۔اور جب آج آخری وقت میں غسل کے بعد یہ کرتہ میاں عبداللہ صاحب کو پہنایا گیا تو اس وقت بھی وہاں خاکسار موجود تھا میاں عبداللہ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ کا دیا ہوا ایک صابن کا ٹکڑا اور ایک بالوں کو لگانے کے تیل کی چھوٹی بوتل اور ایک عطر کی چھوٹی سی شیشی بھی رکھی ہوئی تھی اور غسل کے بعد جو اسی صابن سے دیا گیا۔یہی تیل اور عطر میاں عبداللہ صاحب کے بالوں وغیرہ کو لگایا گیا اور کرتا پہنائے جانے کے بعد خاکسار نے خود اپنے ہاتھ سے کچھ عطر اس کرتہ پر بھی لگایا۔نماز جنازہ سے قبل جب تک حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ کی آمد کا انتظار رہا لوگ نہایت شوق اور درد و رقت کے ساتھ میاں عبداللہ صاحب کو دیکھتے رہے جو اس کرتہ میں ملبوس ہو کر عجیب شان میں نظر آتے تھے۔اور جنازہ میں اس کثرت کے ساتھ لوگ شریک ہوئے کہ اس سے قبل میں نے قادیان میں کسی جنازہ میں اتنا مجمع نہیں دیکھا۔اس کے بعد حضرت خلیفہ المسیح کے سامنے میاں عبداللہ صاحب کو اُس گرتہ کے ساتھ بہشتی مقبرہ کے خاص بلاک میں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سابقون اور اؤلون خدام کے لئے مخصوص ہے دفن کیا گیا اور حضرت خلیفۃ المسیح نے دفن کئے جانے کے وقت فرمایا کہ جن لوگوں کے سامنے یہ کرتہ بعد غسل میاں عبداللہ صاحب کو پہنایا گیا ان کی ایک حلفیہ شہادت اخبار میں شائع ہونی چاہئے تا کہ کسی آئندہ زمانہ میں کوئی شخص کوئی جعلی کرنہ پیش