حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 319 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 319

حیات احمد ۳۱۹ جلد دوم حصہ سوم کہتے ہیں۔یہ کرتہ حضور نے سات دن سے پہنا ہوا تھا۔میں یہ کرتہ لوگوں کو پہلے نہیں دکھایا کرتا تھا۔کیونکہ حضور کے یہ الفاظ کہ یہ کرتہ زیارت نہ بنالیا جاوے مجھے یاد رہتے تھے۔لیکن لوگ بہت خواہش کیا کرتے تھے۔اور لوگ اس کے دیکھنے کے لئے مجھے بہت تنگ کرنے لگے میں نے حضرت خلیفہ ثانی سے اس کا ذکر کیا کہ مجھے حضرت صاحب کے الفاظ کی وجہ سے اس کرتہ کے دکھانے سے کراہت آتی ہے۔مگر لوگ تنگ کرتے ہیں کیا کیا جاوے؟ حضرت میاں صاحب نے فرمایا اسے بہت دکھایا کرو اور کثرت کے ساتھ دکھاؤ تاکہ اس کی رؤیت کے گواہ بہت پیدا ہو جاویں اور ہر شخص ہماری جماعت میں سے یہ کہے کہ میں نے بھی دیکھا ہے۔میں نے بھی دیکھا ہے میں نے بھی دیکھا ہے یا شائد میں نے کی جگہ ہم نے کے الفاظ کہے، اس کے بعد میں دکھانے لگ گیا مگر اب بھی صرف اس کو دکھاتا ہوں جو خواہش کرتا ہے اور از خود دکھانے سے مجھے کراہت ہے۔کیونکہ حضرت صاحب کے الفاظ میرے دل پر نقش ہیں۔اور ہر سفر میں میں اسے پاس رکھتا ہوں۔اس خیال سے کہ کچھ معلوم نہیں کہ کہاں جان نکل جاوے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے یہ کر نہ دیکھا ہے۔سرخی کا رنگ ہلکا ہے۔یعنی گلابی سا ہے اور مجھے میاں عبداللہ صاحب سے معلوم ہوا ہے کہ رنگ ابتدا سے ہی ایسا چلا آیا ہے۔( نیز دیکھو روایت نمبر ۳۶ ) خاکسار عرفانی نے بھی اس گر تہ کو دیکھا اور حضرت منشی صاحب کی وفات پر جب وہ کرتہ پہنایا گیا میں موجود تھا اور مجھے یہ سعادت بھی حاصل ہے کہ حضرت منشی صاحب اس خاکسار کے ساتھ بھی خاص محبت رکھتے تھے۔مرض الموت میں وفات سے دو تین دن قبل میں گیا تو نہایت محبت سے مصافحہ ا حاشیہ روایت ۴۳۶ مندرجہ سیرت المہدی حصہ دوم حسب ذیل ہے۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْمِ خاکسار عرض کرتا ہے کہ آج بتاریخ ۷ اکتوبر ۱۹۳۷ء بروز جمعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک بہت بڑی یادگار خداوند عالم کی ایک زبر دست آیت مقبرہ بہشتی میں سپردخاک ہو گئی یعنی میاں عبداللہ صاحب سنوری کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ گر تہ جس پر خدائی روشنائی کے چھینٹے پڑے تھے دفن کر دیا گیا۔خاکسار نے سیرت المہدی حصہ اوّل میں میاں عبداللہ صاحب برت المہدی جلد اوّل روایت نمبر ۴۳۹ مطبوعه ۲۰۰۸ء