حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 321 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 321

حیات احمد ۳۲۱ جلد دوم حصہ سوم میں وہ تین باتیں بیان فرماتے ہیں (۱) ۱۸۸۴ء کا واقعہ (۲) ماہ جیٹھ (مئی جون ) کا مہینہ تھا۔(۳) رمضان کا مہینہ تھا۔اور ستائیس تاریخ اور جمعہ کا دن تھا۔اگر چہ وہ ۱۸۸۴ء کے متعلق غالبا کا لفظ بولتے ہیں۔مگر یہ صحیح ہے کہ یہ واقعہ ۱۸۸۴ء ہی کا ہے۔رمضان کے مہینے اور ستائیں تاریخ اور جمعہ کے دن کے متعلق کچھ اشتباہ معلوم ہوتا ہے اس لئے کہ رمضان کا مہینہ ۱۸۸۴ء میں کچھ شک نہیں ۲۵ / جون ۱۸۸۴ کو شروع ہوا اور اس حساب سے ۲۷ / رمضان ۲۱ جولائی ۱۸۸۴ء کو واقع ہوئی اور وہ دن دوشنبہ کا تھا اس لئے میں جہاں تک سمجھتا بقیہ حاشیہ: کر کے یہ دعویٰ نہ کر سکے کہ یہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ کرتہ ہے جس پر چھینٹے پڑے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں عبداللہ صاحب مرحوم سابقون اولون میں سے تھے اور حضرت مسیح موعود کے ساتھ ان کو ایک غیر معمولی عشق تھا میرے ساتھ جب وہ حضرت صاحب کا ذکر فرماتے تھے تو اکثر ان کی آنکھیں ڈبڈبا آتی تھیں اور بعض اوقات ایسی رقت طاری ہو جاتی تھی کہ وہ بات نہیں کر سکتے تھے جب وہ پہلے پہل حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کی عمر صرف اٹھارہ سال کی تھی۔اور اس کے بعد آخری لمحہ تک ایسے روز افزوں اخلاص اور وفاداری کے ساتھ مرحوم نے اس تعلق کو نبھایا کہ جو صرف انبیاء کے خاص اصحاب کی ہی شان ہے۔ایسے لوگ جماعت کے لئے موجب برکت و رحمت ہوتے ہیں اور ان کی وفات ایک ایسا قومی نقصان ہوتی ہے جس کی تلافی ممکن نہیں ہوتی۔مرحوم کو اس خاکسار کے ساتھ بہت انس تھا اور آخری ایام میں جبکہ وہ پنشن لے کر قادیان آگئے تھے انہوں نے خاص شوق کے ساتھ ہمارے اس نئے باغ کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا جو فارم کے نام سے مشہور ہے اور جو یہ خاکسار کچھ عرصہ سے تیار کروا رہا ہے اور پھر مرحوم نے اس انتظام کو ایسی خوبی کے ساتھ نبھایا کہ میں اس کے تفکرات سے قریباً بالکل آزاد ہو گیا۔اللہ تعالیٰ مرحوم کو عالم اُخروی میں اعلیٰ انعامات کا وارث کرے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاص قرب میں جگہ عطا فرمائے جن کا عشق مرحوم کی زندگی کا جزو تھا اور مرحوم کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق دے۔اللهم آمین بوقت وفات مرحوم کی عمر کم و بیش چھیاسٹھ سال کی تھی۔وفات مرض فالج سے ہوئی۔جس میں مرحوم نے تیرہ دن بہت تکلیف سے کالے۔فالج کا اثر زبان پر بھی تھا۔اور طاقت گویائی نہیں رہی تھی۔مگر ہوش قائم تھے۔یوں تو سب نے مرنا ہے مگر ایسے پاک نفس بزرگوں کی جدائی دل پر سخت شاق