حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 303 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 303

حیات احمد جلد دوم حصہ سوم جوں وہ براہین کو پڑھتے تھے حضرت اقدس سے ربط اور محبت بڑھتی جاتی تھی۔اور وہ اپنی ارادت و اخلاص سے اس مقام پر پہنچے جو ہر شخص کو نہیں مل سکتا۔حضرت اقدس ان کو اپنے خاص اول درجہ کے دوستوں میں یقین کرتے تھے۔یہ وہ زمانہ تھا کہ آپ کا کوئی دعوئی نہ تھا اگر چہ براہین میں وہ سب کچھ موجود تھا غرض چودھری صاحب اس لہی عقیدت میں ایک ممتاز مقام پر پہنچ گئے۔اور جب ۱۸۸۹ء میں آپ نے اعلان بیعت کیا تو چودھری صاحب کانگڑہ میں تھے میری اپنی تحقیقات یہ ہے کہ حضرت اقدس سے تعلق کے سلسلہ میں تاریخی حیثیت سے حضرت چودھری صاحب کو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ پر بھی سبقت حاصل ہے۔اگر چہ عملاً یوم البیعت میں اولیت کا تاج حضرت حکیم الامت مولانا نورالدین رضی اللہ عنہ کے سر پر رکھا گیا۔میرے اپنے علم و تحقیقات میں حضرت حکیم الامت (خلیفہ مسیح الاول) کا تعلق حضرت اقدس سے ۱۸۸۵ء میں ہوا ہے چوہدری صاحب نے دسویں نمبر پر حضرت اقدس کی بیعت کی چنانچہ رجسٹر مبایعین مرتبہ حضرت اقدس کے دسویں نمبر پر حضرت اقدس نے خود اپنے دست مبارک سے اس طرح اندراج فرمایا ہے۔تاریخ بیعت ۳ / رجب ۱۳۰۶ ه م ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء۔منشی رستم علی ولد شہاب خان۔موضع مدار ضلع جالندھر تحصیل جالندھر۔(موجودہ سکونت ) کانگڑہ۔ملازمت پولیس علاقہ قصیری ڈپٹی انسپکٹر پولیس کانگڑہ۔حضرت اقدس سے تعلقات عقیدت پیدا کرنے کے بعد انہوں نے اس منزل اخلاص میں سلوک کی تمام راہوں کو طے کر لیا اور وہ ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار رہتے تھے۔اور حضرت اقدس کی ضروریات کے وقت پیش پیش رہتے تھے۔اور خود حضرت اقدس بھی اپنے ایک عزیز کی طرح بے تکلف آپ کو بعض خدمات کا موقع دیتے تھے۔یہ تفصیلات ان مکتوبات میں موجود ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کا شکر اور اسی کی حمد ہے کہ اس نے خاکسار عرفانی الکبیر کو یہ سعادت بخشی کہ اس نے ان مکتوبات کو مکتوبات احمد یہ جلد پنجم کے تیسرے نمبر میں شائع کر دیا۔ان مکتوبات کی روشنی میں