حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 302
حیات احمد جلد دوم حصہ سوم انہوں نے بہت جلد ترقی کی۔سارجنٹ سے لے کر انسپکٹر پولیس تک پہنچے اور آخر میں کورٹ انسپکٹر کے عہدہ سے پنشن لی۔فارسی زبان میں شعر بھی کہتے تھے اور تاریخ گوئی میں کمال حاصل تھا۔شروع سے ان کی طبیعت میں انکساری اور فروتنی اور خوش اخلاقی تھی۔اور عملی اسلام سے محبت تھی۔اپنے علم و معرفت کے موافق وہ ایک عملی مسلمان تھے۔جب انہیں حضرت اقدس کا چرچا پہنچا اور آپ کی کتاب براہین احمدیہ کا شہرہ ہوا تو آپ نے براہین کو خریدا اور اس کو کئی مرتبہ پڑھا جوں بقیہ حاشیہ:۔وہ حضرت کے ساتھ ارادت و اخلاص رکھتے تھے مگر کسی نا معلوم وجہ سے بیعت نہ کر سکے۔غرض احمدیت کا بیج میرے قلب میں اس وقت بویا گیا۔اس کے بعد چوہدری صاحب سے پہلی ملاقات ۱۸۹۲ ء میں ہوئی۔یہ فروری ۱۸۹۲ء کا آغاز تھا جبکہ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام لا ہور تشریف فرما تھے۔اس وقت آپ کا قیام محبوب ایوان کے مکان متصل لنگے منڈی میں تھا اور اسی مقام پر وہ مباحثہ ہوا تھا جو مولوی عبدالحکیم کلانوری کے ساتھ مسئلہ محدثیت پر ہوا تھا۔اسی مباحثہ میں آپ کا وہ خارق عادت نشان ظاہر ہوا تھا۔جو بخاری شریف سے ایک حوالہ کے پیش کرنے کے متعلق ایک نوجوان مخالف مولوی احمد علی صاحب نے کیا تھا اس کے متعلق حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت المہدی جلد دوم میں روایت ۶ کیم میں اجمالی ذکر کیا تھا۔میں نے اس کی تصحیح کر دی تھی کہ یہ واقعہ لود بہانہ یا دہلی کا نہیں لاہور کا تھا اور میں اس کا چشم دید گواہ ہوں اور اس وقت نہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب موجود تھے نہ حضرت صاحبزادہ سراج الحق صاحب رضی اللہ عنہ۔غرض اس موقعہ پر چودھری صاحب بھی آئے انہوں نے مجھے اور میں نے ان کو دیکھا اُن کی آنکھوں میں ایک نورانی چمک اور چہرہ دائمی متبسم اور اس پر تہجد خوانی کے افوار ہم نے ایک دوسرے کو پہچان لیا اور خلوص قلب سے ایک دوسرے سے مصافحہ اور معانقہ کیا اور اس کے بعد تعلقات کا سلسلہ ایک حقیقی اخوت کے رنگ میں رنگین ہو گیا وہ الحکم کے اولین خریدار نیاز مند کے اخص معاونین میں سے تھے۔اور اس کی شہادت الحکم کے کالموں میں موجود ہے۔اللہ تعالیٰ ان پر بڑے بڑے فضل اور کرم کرے اپنے قرب میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ان کو ایک فدا یا نہ عشق تھا اور وہ ہر موقعہ فرصت کو غنیمت سمجھ کر حاضر ہوتے۔اللَّهُمَّ نَوْرْ مَرْقَدَهُ (خاکسار عرفانی الكبير ) سيرة المهدی جلد اصفحه ۲۸۲ تا ۲۸۵ روایت نمبر ۳۰۶ مطبوعہ فروری ۲۰۰۸ء