حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 304
حیات احمد ۳۰۴ جلد دوم حصہ سوم چودھری صاحب کے کارنامے اور ان کے روحانی مقام کی عظمت کا پتہ لگتا ہے۔وہ حضرت کے ساتھ ایک فدویا نہ تعلق رکھتے تھے اور باوجود پولیس میں ملازم ہونے کے انہوں نے اپنی زندگی کو ایک راستباز متتدین اور حق پسند مومن کی حیثیت سے بسر کیا۔خود محکمہ پولیس کے بعض لوگ کہا کرتے تھے کہ شیطان کے محکمہ میں یہ ولی عجیب ہے۔اپنے فرائض منصبی کو نہایت دیانتداری سے ادا کرتے اور حق باطل میں کبھی التباس کو پسند نہیں کیا۔اور اپنے مال کو کسی ناجائز مال سے ملنے نہ دیا حلال طیب کمائی تھی اور اس میں سے بھی بقدر قوت لایموت لیتے تھے میرے ساتھ ان کے تعلقات بہت قریبی بھائیوں کے تھے۔اور وہ ہمیشہ نہایت محبت اور اخلاص سے پیش آتے۔حضرت اقدس نے آپ کے متعلق لکھا کہ :۔ایک جوان صالح اخلاص سے بھرا ہوا میرے اوّل درجہ کے دوستوں میں سے ہے ان کے چہرہ پر بھی علامات غربت و بے نفسی و اخلاص ظاہر ہیں کسی ابتلا کے وقت میں نے اس دوست کو متزلزل نہیں پایا۔اور جس روز سے ارادت کے ساتھ انہوں نے 66 میری طرف رجوع کیا اس ارادت میں قبض اور افسردگی نہیں بلکہ روز افزوں ہے۔“ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۳۶) اس اخلاص کے اظہار کی تصدیق آپ نے ۱۸۹۱ء میں کی اور اس وقت تک کہ مختلف قسم کے امتحان صادقوں اور بزدلوں میں امیتاز کے لئے پیدا ہو چکے تھے۔سب سے بڑا فتنہ تو بشیر اوّل کی وفات اور پیشگوئی پر ہوا۔چودھری صاحب کے حصہ میں یہ سعادت بھی آئی تھی کہ بشیر اول کے عقیقہ کی ضروریات کا انتظام بھی حضرت اقدس نے آپ پر ہی چھوڑا اور آپ نے ان کی خدمات کے متعلق ۱۸۹۷ء میں ایک مرتبہ لکھا :۔آپ نے خالصتاً بہت خدمت کی ہے اور دلی محبت اور اخلاص سے آپ 66 خدمت میں لگے ہوئے ہیں اللہ جَلَّ شَانُہ آپ کو اس کا بہت اجر بخشے۔“ یہ داستان عشق و وفا بہت طویل ہے اور میں یہاں ان کے حالات زندگی مختصر ابھی بیان