حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 291 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 291

حیات احمد ۲۹۱ جلد دوم حصہ سوم ابتلا سے اطلاع دی۔میر صاحب قادیان آئے تھے اور اُن کا مقصد یہ تھا کہ وہ حضرت اقدس کو لودھانہ لے جانے کے لئے پُر زور تحریک کریں مگر آپ کے سارے کاموں کا مدار اذنِ الہی پر بقیہ حاشیہ: کے پاس گیا تا اپنی امامت سے اُن کو نماز پڑھاؤں پھر بھی انہوں نے بیزاری سے کہا کہ ہم نماز پڑھ چکے ہیں۔تب اس عاجز نے اُن سے علیحدہ ہونا اور کنارہ کرنا چاہا اور باہر نکلنے کے لئے قدم اٹھایا۔معلوم ہوا کہ اُن سب میں سے ایک شخص پیچھے چلا آتا ہے جب نظر اٹھا کر دیکھا تو آپ ہی ہیں۔اب اگر چہ خوابوں میں تعینات معتبر نہیں ہوتے اور اگر خدا چاہے تو تقدیرات معلقہ کو مبدل بھی کر دیتا ہے لیکن اندیشہ گزرتا ہے کہ خدانخواستہ وہ آپ ہی کا شہر نہ ہو۔لوگوں کے شوق اور ارادت پر آپ خوش نہ ہوں حقیقی شوق اور ارادت کہ جو لغزش اور ابتلا کے مقابلہ پر کچھ ٹھہر سکے لاکھوں میں سے کسی ایک کو ہوتا ہے ورنہ اکثر لوگوں کے دل تھوڑی تھوڑی بات میں بدظنی کی طرف جھک جاتے ہیں اور پھر پہلے حال سے پچھلا حال اُن کا بدتر ہو جاتا ہے۔صادق الارادت وہ شخص ہے کہ جو رابطہ توڑنے کے لئے جلد تر تیار نہ ہو جائے اور اگر ایسا شخص جس پر ارادت ہو کبھی کسی فسق اور معصیت میں مبتلا نظر آوے یا کسی اور قسم کا ظلم اور تعدی اس کے ہاتھ سے ظاہر ہوتا دیکھے یا کچھ اسباب اور اشیاء منہیات کے اُس کے مکان پر موجود پاوے تو جلد تر اپنے جامہ سے باہر نہ آوے اور اپنی دیرینہ خدمت اور ارادت کو ایک ساعت میں برباد نہ کرے۔بلکہ یقینا دل میں سمجھے کہ یہ ایک ابتلا ہے کہ جو میرے لئے پیش آیا اور اپنی ارادت اور عقیدت میں ایک ذرہ فتور پیدا نہ کرے اور کوئی اعتراض پیش نہ کرے۔اور خدا سے چاہے کہ اُس کو اس ابتلا سے نجات بخشے اور اگر ایسا نہیں تو پھر کسی نہ کسی وقت اس کے لئے ٹھوکر در پیش ہے۔جن پر خدا کی نظر لطف ہے اُن کو خدا نے ایک مشرب پر نہیں رکھا بعض کو کوئی مشرب بخشا اور بعض کو کوئی اور۔اُن لوگوں میں ایسے مشرب بھی ہیں کہ جو ظاہری علماء کی سمجھ سے بہت دور ہیں۔حضرت موسیٰ جیسے الوالعزم مرسل خضر کے کاموں کو دیکھ کر سراسمیہ اور حیران ہوئے اور ہر چند وعدہ بھی کیا کہ میں اعتراض نہیں کروں گا۔پر جوش شریعت سے اعتراض کر بیٹھے اور وہ اپنے حال میں معذور تھے اور خضر اپنے حال میں معذور تھے۔غرض اس مشرب کے لوگوں کی خدمت میں ارادت کے ساتھ آنا آسان ہے مگر ارادت کو سلامت لے جانے مشکل ہے۔بات یہ ہے کہ خدا کو ہر ایک زائر کا ابتلا منظور ہے تا وہ اُن پر اُن کی چھپی ہوئی بیماریاں ظاہر کرے۔سونہایت بد قسمت وہ شخص ہے کہ جو اُس ابتلا کے وقت تباہ ہو جائے کاش ! اگر وہ دُور کا دُور ہی رہتا