حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 283 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 283

حیات احمد ۲۸۳ جلد دوم حصہ سوم۔میں کوئی نقص واقع ہوگا۔کسی انسان یا اس کی مساعی اور خدمات کو گو یہ لوگ قدر اور شکر گزاری کی نظر سے دیکھتے ہیں مگر اُن کی نظر اُن کے وجود پر نہیں ہوتی انہیں تو وہ ایک آلہ سمجھتے ہیں جو خدا تعالیٰ نے پیدا کر دیا بقیہ حاشیہ:۔تصریح نہیں ہے کہ وہ باعتبار اپنی اصل فطرت کے کس بات پر ثابت ہیں۔بلا شبہ یہ بات ماننے کے لائق ہے کہ انسان میں کوئی نہ کوئی فطرتی خوبی ہوتی ہے جس پر وہ ہمیشہ ثابت اور مستقل رہتا ہے اور اگر ایک کافر کفر سے اسلام کی طرف انتقال کرے تو وہ فطرتی خوبی ساتھ ہی لاتا ہے اور اگر پھر اسلام سے کفر کی طرف انتقال کرے تو اُس خوبی کو ساتھ ہی لے جاتا ہے کیونکہ فطرت اللہ اور خلق اللہ میں تبدل اور تغیر نہیں۔افراد نوع انسان مختلف طور کی کانوں کی طرح ہیں۔کوئی سونے کی کان۔کوئی چاندی کی کان۔کوئی پیتل کی کان۔پس اگر اس الہام میں میر صاحب کی کسی فطرتی خوبی کا ذکر ہو جو غیر متبدل ہو تو کچھ عجب نہیں۔اور نہ کچھ اعتراض کی بات ہے۔بلاشبہ یہ مسلم مسئلہ ہے کہ مسلمان تو مسلمان ہیں کفار میں بھی بعض فطرتی خوبیاں ہوتی ہیں اور بعض اخلاق فطرتاً ان کو حاصل ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے مجسم ظلمت اور سراسر تاریکی میں کسی چیز کو بھی پیدا نہیں کیا۔ہاں یہ سچ ہے کہ کوئی فطرتی خوبی بجز حصول صراطِ مستقیم کے جس کا دوسرے لفظوں میں اسلام نام ہے۔موجب نجات اخروی نہیں ہو سکتی کیونکہ اعلیٰ درجہ کی خوبی ایمان اور خدا شناسی اور راست روی اور خدا ترسی ہے اگر وہی نہ ہوئی تو دوسری خوبیاں بیچ ہیں علاوہ اس کے یہ الہام اس زمانہ کا ہے کہ جب میر صاحب میں ثابت قدمی موجود تھی۔زبر دست طاقت اخلاص کی پائی جاتی تھی اور اپنے دل میں وہ بھی یہی خیال رکھتے تھے کہ میں ایسا ہی ثابت قدم رہوں گا سوخدا تعالیٰ نے اُن کی اُس وقت کی حالت موجودہ کی خبر دے دی۔یہ بات خدا تعالیٰ کی تعلیمات وحی میں شائع متعارف ہے کہ وہ موجودہ حالت کے مطابق خبر دیتا ہے کسی کے کا فر ہونے کی حالت میں اُس کا نام کا فر ہی رکھتا ہے۔اور اُس کے مومن اور ثابت قدم ہونے کی حالت میں اُس کا نام مومن اور مخلص اور ثابت قدم ہی رکھتا ہے۔خدا تعالیٰ کی کلام میں اس کے نمونے بہت ہیں اور اس میں کچھ شک نہیں