حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 284 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 284

حیات احمد ۲۸۴ جلد دوم حصہ سوم ہو بلکہ آپ کو اس کی ہلاکت کی وجہ سے افسوس تھا اور آپ چاہتے تھے کہ یہ قضا بدل جائے مگر واقعات کے ظہور نے ثابت کر دیا کہ وہ مبرم تھی آپ کو ایک عرصہ سے مختلف اوقات میں میر صاحب کے متعلق بقیہ حاشیہ:۔کہ میر صاحب موصوف عرصہ دس سال تک بڑے اخلاص اور محبت اور ثابت قدمی سے اس عاجز کے مخلصوں میں شامل رہے اور خلوص کے جوش کی وجہ سے بیعت کرنے کے وقت نہ صرف آپ انہوں نے بیعت کی بلکہ اپنے دوسرے عزیزوں اور رفیقوں اور دوستوں اور متعلقوں کو بھی اس سلسلہ میں داخل کیا اور اس دس سال کے عرصہ میں جس قدر انہوں نے اخلاص اور ارادت سے بھرے ہوئے خط بھیجے اُن کا اِس وقت میں اندازہ بیان نہیں کر سکتا۔لیکن دوستو کے قریب اب بھی ایسے خطوط ان کے موجود ہوں گے جن میں انہوں نے انتہائی درجہ کے عجز اور انکسار سے اپنے اخلاص اور ارادت کا بیان کیا ہے بلکہ بعض خطوط میں اپنی وہ خوا ہیں لکھی ہیں جن میں گویا روحانی طور پر ان کی تصدیق ہوئی ہے کہ یہ عاجز من جانب اللہ ہے اور اس عاجز کے مخالف باطل پر ہیں۔اور نیز وہ اپنی خوابوں کی بناء پر اپنی معیت دائمی ظاہر کرتے ہیں کہ گویا وہ اس جہان اور اُس جہان میں ہمارے ساتھ ہیں۔ایسا ہی لوگوں میں بکثرت انہوں نے یہ خوا ہیں مشہور کی ہیں اور اپنے مریدوں اور مخلصوں کو بتلائیں۔اب ظاہر ہے کہ جس شخص نے اس قدر جوش سے اپنا اخلاص ظاہر کیا ایسے شخص کی حالت موجودہ کی نسبت اگر خدائے تعالیٰ کا الہام ہو کہ ی شخص اس وقت ثابت قدم ہے متزلزل نہیں تو کیا اس الہام کو خلاف واقعہ کہا جائے گا۔بہت سے الہامات صرف موجودہ حالات کے آئینہ ہوتے ہیں عواقب امور سے ان کو کچھ تعلق نہیں ہوتا۔اور نیز یہ بات بھی ہے کہ جب تک انسان زندہ ہے اُس کے سُوء خاتمہ پر حکم نہیں کر سکتے کیونکہ انسان کا دل اللہ جل شانہ کے قبضہ میں ہے۔میر صاحب تو میر صاحب ہیں اگر وہ چاہے تو دنیا کے ایک بڑے سنگدل اور مختوم القلب آدمی کو ایک دم میں حق کی طرف پھیر سکتا ہے غرض یہ الہام حال پر دلالت کرتا ہے۔مال پر ضروری طور پر اس کی دلالت نہیں ہے اور مآل ابھی ظاہر بھی نہیں ہے۔بہتوں نے راستبازوں کو چھوڑ دیا اور پکے دشمن بن گئے۔مگر بعد میں پھر کوئی کرشمہ قدرت