حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 282
حیات احمد ۲۸۲ جلد دوم حصہ سوم اُن کی شکل ہی دیکھ کر قبول کر لیتے تو بہت عجائبات تھے کہ اُن کا ہر گز دنیا میں ظہور نہ ہوتا۔“ مکتوب مورخه ۲۶ / فروری ۱۸۸۴ء مکتوبات احمد یہ جلد اول صفحہ ۸۲ مکتوبات احمد جلد اصفحه ۵۹۸ مطبوعه ۲۰۰۸ء) مقام غور ہے کہ دونوں صورتوں میں آپ نے اپنی ماموریت اور بعثت کی شان میں نبوت کے رنگ کو نمایاں کیا ہے گو آپ نے بلا اذن الہی اس کا اس وقت کوئی دعویٰ مشتہر نہیں کیا اس لئے کہ اعلان کا اذن ہی نہ تھا۔آپ دوستوں کو یہی ہدایت فرماتے تھے کہ جو پردہ غیب میں مخفی ہے اس کے ظہور کے منتظر رہیں جو یقین اور بصیرت آپ کو اپنی کامیابی پر تھی وہ ان واقعات سے ظاہر ہے اور سچ تو یہ ہے کہ یہ حالت کیوں پیدا نہ ہوتی جبکہ ہر روز خدا تعالیٰ کی تازہ وحی آپ کو تسلی دے رہی تھی اور خدا تعالیٰ کا غیبی ہاتھ آپ کی پشت پر تھا۔اگر کوئی شخص محض منصوبہ باز ہوتا تو وہ مخالفت کو ان عجائبات کے ظہور کا موجب قرار دیتے ہیں۔جو انبیاء کی مخالفت کے نتیجہ کے طور پر ظہور میں آتے ہیں اور دنیا نے دیکھ لیا کہ آپ کی مخالفت کا انجام کیا ہوا۔میر عباس سے علی صاحب کے ارتداد کی پیشگوئی ۱۸۸۴ء کے آغاز میں جبکہ میر عباس علی صاحب اپنے اخلاص و خدمت گزاری کے مراحل میں ترقی کی طرف جارہا تھا اور براہین احمدیہ کی اشاعت میں اس کے شب و روز بسر ہو رہے تھے۔آپ پر اس کے ارتداد کے متعلق انکشاف ہو رہا تھا۔اس قسم کے الہامات وکشوف سے کچھ شک نہیں کہ آپ کو بہت تکلیف ہو رہی تھی۔اس لئے نہیں کہ ایک مخلص دوست جدا ہو جائے گا اور جو کام وہ کر رہا ہے اس میر عباس علی صاحب لدھیانوی چو بشنوی سخن اهل دل مگو که خطا است سخن شناس نہء دلبرا خطا اینجاست ”یہ میر صاحب وہی حضرت ہیں جن کا ذکر بالخیر میں نے ازالہ اوہام کے صفحہ ۷۹۰ میں بیعت کرنے والوں کی جماعت میں لکھا ہے افسوس ہے کہ وہ بعض موسوسین کی وسوسہ اندازی سے سخت لغزش میں آ گئے بلکہ جماعتِ اعداء میں داخل ہو گئے۔بعض لوگ تعجب کریں گے کہ ان کی نسبت تو الہام ہوا تھا کہ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ اس کا یہ جواب ہے کہ الہام کے صرف اس قدر معنے ہیں کہ اصل اُس کا ثابت ہے۔اور آسمان میں اُس کی شاخ ہے۔اس میں ترجمہ۔جب تو دل والوں کی کوئی بات سنے تو مت کہ اٹھ کہ غلط ہے، اے عزیز! تو بات نہیں سمجھ سکتا غلطی تو یہی ہے۔