حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 248 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 248

حیات احمد ۲۴۸ جلد دوم حصہ دوم (ترجمہ) اے عبدالرافع میں تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔میں تجھے عزت و بزرگی دینے والا ہوں جو میں عطا کروں اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ایک اور بشارت ۱۳ فروری ۱۸۸۴ء کو ایک اور الہام ہوا جو پہلے بھی ہو چکا تھا۔(1) يَا يَحْيَى خُذِ الْكِتَبَ بِقُوَّةٍ - (۲) خُذْهَا وَلَا تَخَفْ سَنُعِيدُهَا سِيرَتَهَا الأولى ( یہ آخری فقرہ پہلے بھی الہام ہو چکا ہے۔ان دونوں الہامات کا ترجمہ یہ ہے (۱) کہ اے بیٹی اس کتاب کو قوت سے پکڑو۔(۲) اسے پکڑ لو اور ڈرومت۔ہم اسے اپنی پہلی سیرت پر لوٹا دیں گے۔خدا تعالیٰ کے مامورین و مرسلین کی زندگی کا یہی باب نہایت دلچسپ ہوتا ہے کہ جبکہ دنیا اور اُس کی ساری مادی طاقتیں ان کی مخالفت میں کھڑی ہو جاتی ہیں اور وہ اسے فنا کر دینا چاہتی ہیں ان بے کسی کی گھڑیوں اور مشکلات کی تاریک راتوں میں ان کے قلب پر سکینت کے فرشتے نازل ہوتے ہیں اور خدا کا کلام کامیابی کی بشارتوں کو لے کر آتا ہے۔جہاں ایک طرف مخالف آپ کو ذلیل کرنا چاہتے تھے خدا عزت اور رفعت کے مقام پر کھڑے کرنے کا وعدہ دیتا ہے اور خطر ناک سے خطر ناک چیزوں کو بے ضرر بنا دینے کے سامان پیدا کر دینے کی بشارت ملتی ہے اور آخر وہی ہوتا ہے۔وَلِلَّهِ الْحَمْدُ۔باوجود یکہ حضرت اقدس خدا تعالیٰ کی ان بشارتوں کے ذریعہ تسلی دے رہے تھے لیکن میر عباس علی صاحب پر ایک خوف طاری تھا اور وہ گھبراہٹ کے خطوط متواتر لکھ رہے تھے دراصل یہی ایک بین فرق ہوتا ہے نبیوں کے ایمان میں اور دوسرے لوگوں کے ایمان میں۔چنانچہ انہوں نے فروری کے آخیر ہفتہ میں پھر ایک سخت گھبراہٹ کا خط لکھا کہ لودہانہ کے مولوی اور مفتی ایک