حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 247
حیات احمد ۲۴۷ مخالفت اور علمائے دہلی جلد دوم حصہ دوم میں پہلے بھی ذکر کر آیا ہوں کہ مخالفت کی ابتدا لودہانہ اور امرتسر سے شروع ہوئی۔اس وقت ان منکرین اور مخالفین کو جواب دینے کے لئے خدا تعالیٰ نے مولوی ابوسعید محمد حسین بٹالوی کو کھڑا کر دیا اور اس نے نہایت سختی سے ان پر حملہ کیا خصوصاً لودہانہ کے مشہور برادران ثلاثہ پر اور انہیں غدار ثابت کیا انہوں نے دیو بند سے فتوی کفر حاصل کرنے کی کوشش کی مگر وہ نا کام رہے اور آخر وہ اس فتویٰ کو لے کر دہلی پہنچے۔دہلی کے علماء نے بھی اس فتویٰ کو درخور اعتنا نہ سمجھا البتہ ان کی اشک شوئی کے لئے حضرت اقدس کو ایک خط لکھا۔جس کا خلاصہ خود حضرت نے میر عباس علی صاحب کو ۱۵ار فروری ۱۸۸۴ء مطابق ۱۶ ؍ ربیع الثانی ۱۳۰۱ھ اس طرح پر تحریر فرمایا۔ایک خط دہلی کے علماء کی طرف سے اس عاجز کو آیا تھا کہ مولوی محمد نے تکفیر کا فتویٰ بہ نسبت اس خاکسار کے طلب کیا ہے نہایت رفق اور ملائمت سے رہنا چاہئے“ مکتوبات احمد جلد ا صفحه ۵۹۷ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) علماء دہلی کے مکتوب پر کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں اُن میں اُس وقت تک خوف خدا اور تقویٰ اللہ موجود تھا اور وہ لو دہانہ کے مولویوں کی حقیقت سے واقف تھے۔حضرت اقدس تو کسی پر کوئی سختی کرتے ہی نہ تھے پھر آپ کے رفق کا تو خدا کی وحی میں بھی ذکر ہے بہر حال مخالفت کی آگ سلگائی جا رہی ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے بشارتیں ایسی حالت میں کہ دشمن آگ بھڑکا رہے تھے اور ایک طوفان بے تمیزی پیدا کرنا چاہتے تھے اور بعض دوست بھی اس مخالفت کے طوفان سے ڈر رہے تھے خدا تعالیٰ کی طرف سے بشارتیں مل رہی تھیں چنانچہ اسی ۱۵ فروری ۱۸۸۴ء کو الہام ہوا۔يَا عَبُدَ الرَّافِعِ إِنِّي رَافِعُكَ إِلَيَّ - إِنِّي مُعِنُّكَ لَا مَانِعَ لِمَا أُعْطِى