حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 249
حیات احمد ۲۴۹ جلد دوم حصہ دوم طوفان بے تمیزی برپا کر رہے ہیں جس سے شدید مخالفت ہو رہی ہے اور یہ آگ ہر طرف پھیل جائے گی مگر حضرت نے انہیں پھر تسلی دی اور فرمایا کہ آں مخدوم کچھ تفکر اور تردد نہ کریں اور یقیناً سمجھیں کہ وجود مخالفوں کا حکمت سے خالی نہیں بڑی برکات ہیں کہ جن کا ظاہر ہونا معاندوں کے عنادوں پر ہی موقوف ہے اگر دنیاوی معاند اور حاسد اور موذی لوگ نہ ہوتے تو بہت سے اسرار اور برکات مخفی رہ جاتے۔کسی نبی کے برکات کامل طور پر ظاہر نہیں ہوئے جب تک وہ کامل طور پر ستایا نہیں گیا۔اگر لوگ خدا کے بندوں کو کہ جو اس کی طرف سے مامور ہو کر آتے ہیں یوں ہی ان کی شکل دیکھ کر قبول کر لیتے تو بہت عجائبات تھے کہ ان کا ہرگز دنیا میں ظہور نہ ہوتا“۔(۲۶ فروری ۱۸۸۴ء مطابق ۱۷ ؍ ربیع الثانی ۱۳۰۱ھ مکتوبات احمد جلد اصفحه ۵۹۸ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) غور کرو کہ آپ کے کلام میں ایک ہی رنگ ہے اور آپ اپنے مقام ماموریت کی شان وہی یقین کرتے ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کے نبیوں کی ہوتی ہے۔اپنے معاملہ کو اسی اصل پر پیش کرتے ہیں۔اور آپ کے قلب میں ایک ایسی سکینت اور اطمینان ہے کہ دنیا کی مخالفت اسے ہلا نہیں سکتی بلکہ آپ اپنی سکینت اور تسلی کا اثر دوسروں پر بھی ڈالتے ہیں جیسے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت صدیق رضی اللہ عنہ پر ڈالا اور خدا کی وحی نے یوں تصدیق کی۔لَا تَحْزَنُ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا۔حضرت چودھری رستم علی صاحب کی آمد حضرت چودھری رستم علی صاحب مدار ضلع جالندھر کے ایک معزز اور شریف خاندان اعوان کے رکن تھے اور بصیغہ ملازمت محکمہ پولیس میں نوکر تھے اور جالندھر میں مقیم تھے کہ آپ تک براہین احمدیہ کا اعلان اور ذکر پہنچا۔باوجود یکہ وہ محکمہ پولیس میں نوکر تھے اور ابھی نوجوان تھے مگر صوم وصلوٰۃ کے پابند اور علماء و فقراء کی طرف ان کو رغبت تھی انہوں نے جب براہین احمدیہ اور حضرت اقدس کا چر چا سنا تو براہین احمدیہ کو خرید کیا اور اسے غور سے کئی بار پڑھا جوں جوں وہ براہین کو پڑھتے حضرت اقدس کے ساتھ ان کا ربط اور محبت بڑھتی گئی یہاں تک کہ آپ نے اپنے اخلاص و وفا میں