حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 246 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 246

حیات احمد ۲۴۶ جلد دوم حصہ دوم نے جوابا اس کے لئے ایک رسالہ لکھا اور محمد حسین کو مخاطب کر کے ایک شعر لکھا یا صوفی خود را بروں آر یا تو به گن از بدگمانی* حضرت اقدس نے ہر چند کوشش کی کہ ان کی حالت میں اصلاح ہو جاوے اور حضرت کو فی الحقیقت بہت درد تھا کہ یہ شخص جس نے اوائل میں اس قدر خدمت کی ہے اس طرح پر تباہ نہ ہو مگر قدرت کے نوشتوں کو کون بدل سکتا ہے۔حضرت فرماتے ہیں کہ " مرتد ہونے کے بعد ایک دن وہ لودھیانہ میں پیر افتخار احمد صاحب کے مکان پر مجھے ملے اور کہنے لگے کہ آپ کا اور ہمارا مقابلہ اس طرح پر ہو سکتا ہے کہ ایک حجرہ میں ہم دونوں بند کئے جائیں اور دس دن تک بند ر ہیں پھر جو جھوٹا ہو گا مر جائے گا۔میں نے کہا میر صاحب ایسی خلاف شرع آزمائیشوں کی کیا ضرورت ہے؟ کسی نبی نے خدا کی آزمائش نہیں کی مگر مجھے اور آپ کو خدا دیکھ رہا ہے وہ قادر ہے کہ بطور خود جھوٹے کو بچے کے روبرو ہلاک کر دے۔اور خدا کے نشان تو بارش کی طرح برس رہے ہیں اگر آپ طالب صادق ہیں تو قادیان میں میرے ساتھ چلیں جواب دیا کہ میری بیوی بیمار ہے میں جانہیں سکتا اور شاید یہ جواب دیا کہ کسی جگہ گئی ہوئی ہے۔یاد نہیں رہا۔میں نے کہا کہ اب بس خدا کے فیصلہ کے منتظر رہو۔پھر اُسی سال وہ فوت ہو گئے اور کسی حجرہ میں بند کئے جانے کی ضرورت نہ رہی۔(حقیقۃ الوحی صفحه ۲۹۴، ۲۹۵۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۰۷، ۳۰۸) عجیب بات یہ ہے کہ وہ مکتوبات جن میں اس کے ارتداد کے متعلق پیشگوئیاں تھیں خود اس نے جمع کئے اور ایک بیاض میں لکھے اور خود اس کی زندگی میں ہی بعض دوستوں نے اُس بیاض سے نقل کر لئے اور مختلف مقامات پر وہ پھیل گئے۔ا ترجمہ :۔اے صوفی یا تو خود کو ظاہر کر دے یا بد گمانی سے تو بہ کر۔