حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 243 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 243

حیات احمد ۲۴۳ جلد دوم حصہ دوم میر عباس علی صاحب کے ارتداد کی پیشگوئی ۱۸۸۴ء کے آغاز میں جبکہ میر عباس علی صاحب اپنے اخلاص و خدمت گزاری کے مراحل میں ترقی کی طرف جارہا تھا اور براہین احمدیہ کی اشاعت میں اس کے شب و روز بسر ہو رہے تھے آپ پر اس کے ارتداد کے متعلق انکشاف ہو رہا تھا۔اس قسم کے الہامات وکشوف سے کچھ شک نہیں کہ آپ کو بہت تکلیف ہو رہی تھی۔اس لئے نہیں کہ ایک مخلص دوست جدا ہو جائے گا اور جو کام وہ کر رہا ہے اس میں کوئی نقص واقع ہوگا۔کسی انسان یا اس کی مساعی اور خدمات کو گو یہ لوگ قدر اور شکر گزاری کی نظر سے دیکھتے ہیں مگر ان کی نظر ان کے وجود پر نہیں ہوتی انہیں تو وہ ایک آلہ سمجھتے ہیں جو خدا تعالیٰ نے پیدا کر دیا ہو بلکہ آپ کو اس کی ہلاکت کی وجہ سے افسوس تھا اور آ چاہتے تھے کہ یہ قضا بدل جاوے مگر واقعات کے ظہور نے ثابت کر دیا کہ وہ مبرم تھی آپ کو ایک عرصہ سے مختلف اوقات میں میر صاحب کے متعلق بعض اشارات ہوئے اور آپ نے ان کو وقتاً فوقتاً اس کی اطلاع بھی دی۔چنانچہ ۲۲ ستمبر ۱۸۸۳ء کو آپ نے ان کو لکھا کہ "خداوند کریم آپ کی تائید میں رہے اور مکروہات زمانہ سے بچاوے۔اس عاجز سے تعلق اور ارتباط کرنا کسی قدر ابتلا کو چاہتا ہے سو اس ابتلا سے آپ بچ نہیں سکتے۔“ ایک کشف اور رویا مکتوبات احمد جلد ا صفحه ۵۷۱ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) پھر ۱۸/ جنوری ۱۸۸۴ء کو آپ نے میر صاحب کو اپنا ایک رؤیا لکھا کہ ایک رات خواب میں دیکھا کہ کسی مکان پر جو یاد نہیں یہ عاجز موجود ہے اور بہت سے نئے نئے آدمی جن سے سابق تعارف نہیں ، ملنے کو آئے ہوئے ہیں اور آپ بھی ان کے ساتھ موجود ہیں مگر معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اور مکان ہے۔اُن لوگوں نے اس عاجز میں کوئی بات دیکھی ہے جو اُن کو ناگوار گزری ہے سو ان کے دل منقطع