حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 242
حیات احمد ۲۴۲ جلد دوم حصہ دوم اں مخدوم کچھ تفکر اور تردد نہ کریں اور یقیناً سمجھیں کہ وجود مخالفوں کا حکمت سے خالی نہیں بڑی برکات ہیں کہ جن کا ظاہر ہونا معاندوں کے عنادوں پر ہی موقوف ہے اگر دنیاوی معاند اور حاسد اور موذی لوگ نہ ہوتے تو بہت سے اسرار اور برکات مخفی رہ جاتے۔کسی نبی کے برکات کامل طور پر ظاہر نہ ہوئے جب تک وہ کامل طور پر ستایا نہیں گیا اگر لوگ خدا کے بندوں کو جو اس کی طرف سے مامور ہو کر آتے ہیں یونہی ان کی شکل ہی دیکھ کر قبول کر لیتے۔تو بہت عجائبات تھے کہ اُن کا ہرگز دنیا میں ظہور نہ ہوتا۔(۲۶ فروری ۱۸۸۴ء مکتوبات احمد جلد ا صفحه ۵۹۵ مطبوعه ۲۰۰۸ء) مقام غور ہے کہ دونوں صورتوں میں آپ نے اپنی ماموریت اور بعثت کی شان میں نبوت کے رنگ کو نمایاں کیا ہے۔گو آپ نے بلا اذنِ الہی اس کا اس وقت کوئی دعویٰ مشتہر نہیں کیا اس لئے کہ اعلان کا اذن ہی نہ تھا۔آپ دوستوں کو یہی ہدایت فرماتے تھے کہ جو پردہ غیب میں مخفی ہے اس کے ظہور کے منتظر رہیں جو یقین اور بصیرت آپ کو اپنی کامیابی پر تھی وہ ان واقعات سے ظاہر ہے اور سچ تو یہ ہے کہ یہ حالت کیوں پیدا نہ ہوتی جبکہ ہر روز خدا تعالیٰ کی تازہ وحی آپ کو تسلی دے رہی تھی اور خدا تعالیٰ کا غیبی ہاتھ آپ کی بعثت پر تھا۔اگر کوئی شخص محض منصو بہ باز ہوتا تو وہ مخالفت کے اس طوفان سے ڈر جاتا اور گھبرا کر پیچھے ہٹ جاتا لیکن جیسا کہ سنت انبیاء ہے آپ مخالفت کو ان عجائبات کے ظہور کا موجب قرار دیتے ہیں۔جو انبیاء کی مخالفت کے نتیجہ کے طور پر ظہور میں آتے ہیں اور دنیا نے دیکھ لیا کہ آپ کی مخالفت کا انجام کیا ہوا۔