حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 244
حیات احمد ۲۴۴ جلد دوم حصہ دوم ہو گئے آپ نے اُس وقت مجھ کو کہا کہ وضع بدل لو۔میں نے کہا نہیں بدعت ہے۔سو وہ لوگ بیزار ہو گئے اور ایک دوسرے مکان میں جو ساتھ ہے جا کر بیٹھ گئے۔تب شاید آپ بھی ساتھ ہیں۔میں اُن کے پاس گیا تا اپنی امامت سے ان کو نماز پڑھاؤں پھر بھی انہوں نے بیزاری سے کہا کہ ہم نماز پڑھ چکے۔‘ الآخره مکتوبات احمد جلد اصفحه ۵۸۹٬۵۸۸ مطبوعه ۲۰۰۸ء) ایسا ہی ۱۸۸۳ء کی پہلی سہ ماہی میں آپ نے میر عباس علی صاحب کو اس پیش آنے والے ابتلا سے اطلاع دی۔میر صاحب قادیان آئے تھے اور ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ حضرت اقدس کو لود ہانہ لے جانے کے لئے پر زور تحریک کریں مگر آپ کے سارے کاموں کا مدار اذن الہی پر تھا ان کے قیام قادیان ہی کے ایام میں حضرت اقدس پر ان کی روحانی حالت اور انجام کا انکشاف ہوا مگر آپ نے اس وقت اکرام ضیف اور دل شکنی کے خیال سے ان کو کچھ نہیں کہا لیکن جب لودہا نہ چلے گئے تو آپ نے ان کو لکھا کہ آپ کے تعلق محبت سے دل کو نہایت خوشی ہے۔خدا اس تعلق کو مستحکم کرے۔انسان ایسا عاجز اور بے چارہ ہے کہ اس کا کوئی کام طرح طرح کے پردوں اور حجابوں سے خالی نہیں اور اس کے کسی کام کی تعمیل بجز حضرت احدیت کے ممکن نہیں۔ایک بات واجب الاظہار ہے اور وہ یہ ہے کہ وقت ملاقات ایک گفتگو کے اثناء میں بہ نظر کشفی آپ کی حالت ایسی معلوم ہوئی کہ دل میں کچھ انقباض ہے“۔وو (آگے چل کر فرماتے ہیں ) سو الحمد للہ آپ جو ہر صافی رکھتے ہیں غبار ظلمت آثار کو آپ کے دل میں قیام نہیں اس وقت یہ بیان کرنا مناسب نہیں سمجھا گیا مگر بہت ہی سعی کی گئی کہ خدا وند کریم اس کو دور کرے مگر تعجب نہیں کہ آئندہ بھی کوئی انقباض پیش آوے جب انسان ایک نئے گھر میں داخل ہوتا ہے تو اس کے لئے ضرور ہے کہ اس گھر کی وضع قطع میں بعض امور اس کو حسب مرضی