حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 214
حیات احمد ۲۱۴ جلد دوم حصہ دوم آدمی اس کی نگرانی کرتے تھے اور جو کچھ وہ وصول کر کے لا دیتے حضرت اس کو لے لیتے۔اکثر ایسا ہوتا کہ مرزا سلطان احمد صاحب کے کارندے ان کی اطلاع کے بغیر اپنی چالاکیوں سے نقصان کر دیتے یا ادھر کی کچھ آمدنی غصب کر کے لے جاتے مگر حضرت نے کبھی اس طرف توجہ نہ کی اس لئے کہ آپ کو دنیا اور اس کے معاملات کی طرف رغبت ہی نہ تھی آپ اسی ایک غم میں گداز تھے کہ اعلائے کلمتہ الاسلام ہو اور آپ کی ساری توجہ براہین احمدیہ کی تصنیف اور اس کی اشاعت کی طرف مبذول تھی۔اور منکرین و معاندین اسلام جو حملے اسلام پر کرتے تھے ان کے جوابات دینے کے لئے مستعدی سے تیار تھے۔مختلف اطراف سے آپ کے پاس خطوط آتے جن میں سوالات ہوتے یا مختلف قسم کے اعتراضات ہوتے آپ ان کو جوابات دیتے اور اگر سوال اس قسم کا ہوتا تو اس کا جواب براہین احمدیہ میں درج کرتے جیسا کہ براہین احمدیہ کے دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے۔اس وقت یعنے مرزا غلام قادر صاحب مرحوم کی وفات تک براہین احمدیہ کے تین حصے شائع ہو چکے تھے اور براہین کی چوتھی جلد زیر تصنیف اور زیر کتابت و طباعت تھی اس کے چھاپنے کا اہتمام شیخ نوراحمد صاحب ما لک ریاض ہند پریس امرتسر کے سپر د تھا مگر وہ انہیں ایام میں بخارا ایک تاجر کے ساتھ چلے گئے اس لئے اب انتظام منشی محمد حسین صاحب مراد آبادی کے سپر د تھا۔چنانچہ چوتھی جلد ان کے ہی اہتمام میں شائع ہوئی وہ سَابِقُونَ الاَوَّلُون میں سے تھے اور بڑے مخلص تھے۔فتح اسلام انہوں نے ہی لکھا تھا۔