حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 213 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 213

حیات احمد ۲۱۳ جلد دوم حصہ دوم جیسا کہ میں اوپر بیان کر آیا ہوں۔مرزا سلطان احمد صاحب کی تبنیت کا واقعہ صحیح نہیں۔اس کی اتنی ہی حقیقت ہے جو میں نے لکھ دی ہے۔خاندان کا بزرگ جو مصنف پنجاب چیفس نے لکھا ہے وہ محض اس دنیوی نقطہ خیال سے کہ ہر قسم کے سرکاری کام افسروں سے تعلقات اور نمبر داری کے معاملات مرزا سلطان احمد صاحب ہی سرانجام دیتے تھے والا خاندان کے بزرگ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام تھے اور خود مصنف پنجاب چیفس نے بھی آپ کا مختصر سا الگ ذکر کیا ہے۔غرض مرزا غلام قادر صاحب ۵۵ سال کی عمر میں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے اپنی وحی سے اطلاع دی تھی فوت ہو گئے۔اسی سلسلہ میں مجھے یہ بھی بتا دینا ضروری ہے کہ جناب مرزا غلام قادر صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے روحانی کمالات کا ہمیشہ احترام کرتے تھے وہ اور سارا خاندان آپ کی نیکی شب زندہ داری اور دعاؤں کی قبولیت کا قائل تھا۔مرزا غلام قادر صاحب خاندانی مذاق کے موافق شاعرانہ طبیعت بھی رکھتے تھے مفتون تخلص تھا میں نے پہلی جلد میں بیان کیا ہے کہ بڑے مرزا صاحب یعنی حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم بھی نہایت بلند پایہ کے شاعر تھے اور تحسین تخلص کرتے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کلام تو ظاہر ہے کہ ابتدا میں آپ اپنا تخلص فرخ کرتے تھے۔یہ ذکر تو ضمناً آ گیا۔غرض مرزا غلام قادر صاحب مرحوم کی وفات کے بعد خاندان اور سلسلہ کی تاریخ کا ایک نیا باب شروع ہو گیا۔حضرت اقدس بدستور اپنے اس کام میں مصروف رہے جو خدا تعالیٰ نے آپ کے سپرد کیا تھا اور خاندانی اراضیات کے انتظام سے آپ کو کوئی تعلق اور واسطہ نہ رہا وہ ابتداء مرزا سلطان احمد ہی کرتے رہے لیکن بعد میں جب وہ ملا زم ہو گئے۔اور بعض کارکنوں نے اچھا طریق عمل نہ پیش کیا تو یہ جائیداد تقسیم ہوگئی۔نصف حضرت اقدس کے نام پر درج ہوگئی اور نصف مرزا سلطان احمد صاحب کے نام پر۔اس وقت بھی اس کے انتظام میں آپ نے کوئی خاص دلچسپی نہ لی۔بلکہ مرزا اسماعیل بیگ جو آپ کے خدام میں بچپن سے داخل تھے یا بعض دوسرے