حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 215 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 215

حیات احمد ۲۱۵ ۱۸۸۳ء کے الہامات وكشوف جلد دوم حصہ دوم ۱۸۸۳ء کے الہامات و کشوف کی تاریخوں کے متعلق صحیح تعین کا دعوی نہیں کیا جا سکتا لیکن خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریروں سے جو ثبوت ملتا ہے اس کو مدنظر رکھ کر تاریخی ترتیب دی گئی ہے میں اس معاملہ میں اپنی خوش بختی پر ناز کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور کرم کے لئے اس کے حضور اپنے سر کو جھکا ہوا پاتا ہوں کہ ان الہامات و کشوف کی اشاعت کے لئے مکتوبات کے ذریعہ پہلی تحریری سند میں نے ہی پیش کی ہے۔حضرت اقدس کا معمول تھا کہ اپنے خدام کو تازہ بتازہ الہامات سے مطلع فرما دیا کرتے تھے تا کہ جب وہ پورے ہوں تو ان کا ایمان بڑھے۔اور اس طرح پر آپ جماعت کی روحانی تربیت فرماتے تھے۔ان الہامات کی ترتیب جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے اسی اصل پر ہے کہ حضرت اقدس کی اپنی تحریروں میں سے جو واقعی یا قریبی تاریخ ملی ہے اس کو مقدم کر لیا گیا ہے۔اس امر کو بھی یادرکھنا چاہئے کہ بعض تحریروں میں آپ نے اندازاً بھی کسی الہام کے متعلق لکھ دیا ہے اس حالت میں جو تحریر اس کی تاریخ کے تعین میں مقدم اور صحیح اندازہ کو لئے ہوئے ہے اسی کو لیا گیا ہے۔اور ایک اور امر جو قابل لحاظ ہے یہ ہے کہ براہین احمدیہ کی جلد سوم میں جو الہامات درج ہیں ان کا زمانہ بھی ۱۸۸۴ء تک تو یقیناً اور آغاز ۱۸۸۳ء تک پایا جاتا ہے مگر میں نے ان الہامات کو اس جگہ نہیں لیا۔میں نے صرف ان کشوف والہامات کو درج کیا ہے جن کا صَرَاحَةً بلا تاویل سال نزول ۱۸۸۳ء ثابت ہے۔ان امور کے بیان کرنے کے بعد میں اب ان الہامات کو درج کرتا ہوں۔وَبِاللهِ التَّوْفِيقِ (۱) فروری ۱۸۸۳ء کے آخری ایام (۲۸/۲۷ فروری ) یا مارچ ۸۳ء کی پہلی دوسری تاریخ کو اللہ تعالیٰ نے کشفی رنگ میں میر عباس علی صاحب لود بانوی کے ایک مکتوب کی بعض عبارتیں دکھا دیں چنانچہ فرماتے ہیں کہ :۔