حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 204 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 204

حیات احمد ۲۰۴ جلد دوم حصہ دوم معروضات میں لطیف اور لذیذ کلمات میں جواب پاتا ہے۔اور بسا اوقات ہر سوال کے بعد جواب سنتا ہے اور کلمات احدیت میں بہت سے تلطفات پاتا ہے تو تمام ہموم وعموم دل سے دُور ہو جاتے ہیں اور جیسے کوئی نہایت تیز شراب سے مست اور دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوتا ہے ایسی ہی حالت سرور کی طاری ہوتی ہے۔“ پھر اسی خط میں آپ نے اپنی انتہائی انکساری کا اقرار کر کے لکھا کہ ”نہ زاہدوں میں سے ہے نہ وہ عابدوں میں سے نہ پارساؤں میں سے نہ مولویوں سے سخت حیرانی ہے کہ کس چیز پر نظر عنایت ہے يَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ (۲۶) ۹/ نومبر ۱۸۸۳ء اوائل نومبر میں سفر امرتسر اختیار کیا مگر وہاں جا کر بیمار ہو گئے اس لئے لودہا نہ جانے کا ارادہ ملتوی ہو گیا۔آپ نے مولویت کو فقر کی راہ میں حجاب عظیم قرار دیا۔اور پاک نفس ہونے کے لئے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیم“ پر زور دینے کی تاکید فرمائی۔مکتوبات احمد جلد ا صفحه ۵۸۱ مطبوعه ۲۰۰۸ء) (۲۷) ۲۰ نومبر ۱۸۸۳ء اپنے کسی ایک رفیق کی وفات کی خبر جو الہامات الہیہ سے ملی تحریر فرمائی اور یہ بھی واضح کیا کہ اس عاجز پر اس قسم کے الہامات اور مکاشفات اکثر وارد ہوتے رہتے ہیں جن میں اپنی نسبت اور بعض احباب کی نسبت ان کے عُسر یسر کی نسبت عمر کی نسبت ، ظاہر ہوتا رہتا ہے۔مکتوبات احمد جلد ا صفحه ۵۸۲ جدید مطبوعه ۲۰۰۸ء) (۲۸) ۱۲ دسمبر ۱۸۸۳ء بعض انگریزی اور دوسری زبان غالبا عبرانی کے الہامات کی خبر دی ہے الفاظ کے مفہوم اور ترجمہ کو دریافت فرمایا ایک فقرہ یہ بھی ہے۔ہی ہلٹس ان دی ضلع پشاور۔اب واقعات کے ظاہر ہو جانے کے بعد راقم الحروف (عرفانی ) کہتا ہے کہ یہ لیکھرام کے متعلق تھا کیونکہ ان ایام میں وہ وہاں تھا۔(۲۹)۱۹ر دسمبر ۱۸۸۳ء سفر لودہانہ کے متعلق اطلاع دی گئی چونکہ تفصیل سے لکھا جا چکا ہے اس قدر اشارہ کافی ہے۔