حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 205
حیات احمد ۲۰۵ جلد دوم حصہ دوم یہ ایک مختصر سا خا کہ آپ کی ڈائری ۱۸۸۳ء کا ہے اسے ڈائری تو نہیں کہا جا سکتا۔اس کا ایک ورق کہا جا سکتا ہے۔اس کے پڑھنے سے معلوم ہوگا کہ آپ کے لیل و نہار اشاعت دین کی فکر اور تزکیہ نفس کی سعی میں گزرتے تھے۔خدا کی تازہ بتازہ وحی آپ پر نازل ہو رہی تھی اور آئندہ پیش آنے والے واقعات کے متعلق آپ کو تسلی اور اطمینان دلا رہی تھی۔ایک طرف مخالفت اور شدید مخالفت کی خبریں دی جا رہی تھیں تو دوسری طرف غلبہ اور اقتدار کی بشارات مل رہی تھیں باوجود اس کے کسی قسم کا دعوئی آپ نے نہیں فرمایا تھا۔اس حالت میں تو حید اور تفویض کا بے حد غلبہ آپ کے دل پر تھا۔مخلوقات کے سامنے کسی قسم کی لجاجت کرنا یا امید رکھنا آپ دوسروں کے لئے بھی جائز نہیں سمجھتے تھے۔یہ واقعات ہیں۔اگر غور سے کوئی شخص جو سلیم الفطرت ہو اور اس کا ضمیرسُن نہ ہو گیا ہو ان کو پڑھے گا تو اسے صاف اقرار کرنا پڑے گا کہ یہ شخص عظیم الشان انسان ہے اور نبوت کی فطرت لے کر آیا ہے۔اس حالت میں کہ آپ نے کوئی دعوی نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ بشارت بھی دی که وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ - اس کے متعلق فرمایا کہ:۔یہ آیت بار بار الہام ہوئی اور اس قدر متواتر ہوئی کہ جس کا شمار خدا ہی کو معلوم ہے اور اس قدر زور سے ہوئی کہ میخ فولادی کی طرح دل کے اندر داخل ہو گئی۔اس سے یقیناً معلوم ہوا کہ خدا وند کریم اُن سب دوستوں کو کہ جو اس عاجز کے طریق پر قدم ماریں بہت سی برکتیں دے گا اور ان کو دوسرے طریقوں کے لوگوں پر غلبہ بخشے گا اور یہ غلبہ قیامت تک رہے گا۔اور اس عاجز کے بعد کوئی مقبول ایسا آنے والا نہیں کہ جو اس طریق کے مخالف قدم مارے۔اور جو مخالف قدم مارے گا اس کو خدا تباہ کرے گا۔اور اُس کے سلسلہ کو پائیداری نہیں ہوگی۔یہ خدا کی طرف سے وعدہ ہے جو ہرگز تخلف نہیں کرے گا۔“ مکتوب ۱۲ / جون ۱۸۸۳ء بنام میر عباس علی شاہ۔مکتوبات احمد جلد اصفه ۵۳۴ مطبوعه ۲۰۰۸ء)