حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 203 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 203

حیات احمد ۲۰۳ جلد دوم حصہ دوم وو دنیا دار کے سامنے تذلل اختیار نہ کرے اور اس کی شان باطل کو تحقیر کی نظر سے دیکھے انسان دنیا دار کے سامنے نرمی اور تواضع اختیار کرتا ہے یہاں تک کہ حضرت خداوند عز وجل کے نزدیک مشرک ٹھہرتا ہے اس سے آپ جس بلند مقام تو حید پر ہیں اس کا پتہ ملتا ہے۔پھر بتا کید لکھا ہے کہ: ” دنیا داروں سے مطلب براری کے لئے نرمی کرنا دنیا داروں کا کام ہے اور یہ کام خَالِقُ السَّمَوَاتِ وَالاَرض کا ہے۔مجھ کو یا آپ کو لازم نہیں کہ ایک بدنصیب دُنیا دار سے ایسی لجاجت کریں کہ جس سے اپنے مولیٰ کی کسر شان لازم آوے۔جو لوگ ذات کبریا کا دامن پکڑتے ہیں وہ منکروں کے دروازے پر ہرگز نہیں جاتے اور لجاجت سے بات نہیں کرتے۔سو آپ اس طریق کو ترک کر دیں۔“ اللہ تعالیٰ پر توکل اور خود داری کی ایک بہت بڑی شان اس میں نمایاں ہے فتد بر۔مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۵۷۷ تا ۷۹ ۵ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) (۲۵) ۲۹ اکتوبر ۱۸۸۳ء آپ اس وعدہ الہی کے پورے ہونے پر اظہار مسرت کرتے 66 ہیں جو خدا تعالیٰ نے ان الفاظ میں دیا تھا يَنصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِي إِلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ یعنی تیری مدد وہ مردانِ دین کریں گے جن کے دل میں ہم آسمان سے آپ ڈالیں گے۔“ پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بشارات ملنی ہوتی ہیں ان کا ذکر کرتے ہوئے لکھا براہین کی اشاعت میں جو تو قف وغیرہ ہوا سب اس کے ارادہ اور منشاء سے ہو رہا ہے۔اس نے تو قف اور آہستگی سے کام کرنا چاہا ہے۔سب کچھ وہی کرتا ہے۔دوسرا کون ہے جو اس کا حارج ہو رہا ہے۔بار ہا اِس عاجز کو حضرت احدیت کے مخاطبات میں ایسے کلمات فرمائے جن کا ماحصل یہ تھا کہ سب دنیا پنجہ قدرت احدیت میں مقہور اور مغلوب ہے اور تصرفات الہیہ زمین و آسمان میں کام کر رہے ہیں چند روز کا ذکر ہے کہ یہ الہام ہوا۔اِنْ تَمْسَسْكَ بِضُرٍ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ وَإِنْ يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ أَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ لَاتٍ۔سوخدا تعالیٰ اپنے کلمات مقدسہ سے اس قدر اس عاجز کو تقویت دیتا ہے کہ پھر اس کے غیر سے نہ کچھ خوف باقی رہتا ہے اور نہ اس کو امید گاہ بنایا جاتا ہے۔جب یہ عاجز اپنے