حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 198
حیات احمد ۱۹۸ جلد دوم حصہ دوم تَقُلُ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَالِكَ غَدًا - ان الہامات کو پیش کر کے بیعت کے متعلق جو لوگ درخواستیں کرتے تھے ان کو لکھا کہ چونکہ بیعت کے بارے میں اب تک خداوند کریم کی طرف سے کچھ علم نہیں اس لئے تکلف کی راہ میں قدم رکھنا جائز نہیں لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَالِكَ أَمْرًا۔مکتوب نمبر ۱۴۔مکتوبات احمد جلد صفحه ۵۲۷ تا ۵۲۹ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) (۱۰) ۲۱ مئی ۱۸۸۳ ء ایک مکتوب میں اپنی زندگی کا مقصد اعلیٰ بتایا کہ یہ عاجز اپنی زندگی کا مقصد اعلی یہی سمجھتا ہے کہ اپنے لئے اور اپنے عزیزوں اور دوستوں کے لئے ایسی دعائیں کرنے کا وقت پاتا رہے کہ جو رب العرش تک پہنچ جائیں اور دل تو ہمیشہ تڑپتا ہے کہ ایسا وقت ہمیشہ میسر آجایا کرے۔“ مکتوبات احمد جلد اوّل صفحه ۵۳۱٬۵۳۰ مطبوعه ۶۲۰۰۸) انبیاء علیہم السلام میں مخلوق کی ہمدردی کے لئے جو قوت عشقیہ ہوتی ہے اس کی صراحت و حقیقت کو بیان فرمایا اور پیری مریدی کے تعلقات میں پیر کی قوت عشقیہ والدین کا حکم رکھتی۔ہے جن لوگوں کے ہاتھ پر خلق اللہ کی اصلاح ہوتی ہے۔ان میں قوت عشقیہ بھری ہوتی ہے۔(۱۱) ۱۲ جون ۱۸۸۳ء۔ان مصائب اور ابتلاؤں سے مِنْ وَجُه خبر دی جو خدا تعالیٰ نے آپ کے یا متبعین کے لئے مقرر ہیں اور سنت اللہ کے موافق ایسے لوگوں کے لئے مقرر ہیں آپ نے بتایا کہ لوگوں کی فضول گوئی سے کچھ نہیں بگڑتا۔اسی طرح پر عادت اللہ جاری ہے کہ ہر ایک مہم عظیم کے مقابلہ پر کچھ معاند ہوتے چلے آئے ہیں۔خدا کے نبی اور اُن کے تابعین قدیم سے ستائے گئے ہیں سو ہم لوگ کیونکر سنت اللہ سے الگ رہ سکتے ہیں۔وہ اندر کی باتیں جو مجھ پر ظاہر کی جاتی ہیں ہنوز ان میں سے کچھ بھی نہیں “ پھر اسی سلسلہ میں اپنی اور اپنے متبعین کے غلبہ اور فوقیت کی بشارت بھی دی اور ایک بشارت اور وحی الہی کی بناء پر فرمایا :۔کہ خدا وند کریم ان سب دوستوں کو جو اس عاجز کے طریق پر قدم ماریں بہت سی برکتیں دے گا اور ان کو دوسرے طریقوں کے لوگوں پر غلبہ بخشے گا۔اور یہ غلبہ قیامت تک رہے گا اور اس عاجز کے بعد کوئی ایسا مقبول آنے والا نہیں جو اس طریق کے مخالف قدم مارے اور جو