حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 197
حیات احمد ۱۹۷ جلد دوم حصہ دوم متصوفین کو نہایت خوبی کے ساتھ مجد دانہ انداز میں بیان کیا۔اس قسم کے مکتوبات کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ آپ کس قدر تحقیق اور تدقیق سے روحانی مسائل کو بیان فرماتے ہیں اور آپ کا علم خدا دا د اور لڈنی ہے۔(۷) ۱۵/ اپریل ۱۸۸۳ء درود شریف کے پڑھنے کے طریق پر بحث فرمائی اور فرمایا کہ اعمال میں روح صداقت کی ضرورت ہے نہ رسم و عادات کی۔یہ زمانہ عجیب تھا حضور سلوک کے منازل طے کرنے کے لئے عبادات کی حقیقت اور روح پیدا کرنے کے اسرار اور اسباب بیان فرما رہے تھے ”نماز میں قبولیت کی شان کس طرح پیدا ہو اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيم “میں دلی آہوں سے دلی تضرعات سے دلی خضوع سے دلی جوش سے حضرت احدیت کا فیض طلب کرنا چاہئے اور اپنے تئیں ایک مصیبت زدہ اور عاجز اور لاچار سمجھ کر اور حضرت احدیت کو قادر مطلق رحیم کریم یقین کر کے رابطہ محبت اور قرب کے لئے دعا کرنی چاہیئے“ مکتوب نمبر ۹۔مکتوبات احمد جلد اصفحه ۵۲۳٬۵۲۲ مطبوعه ۲۰۰۸ء) (۸) ۲۶ / اپریل ۱۸۸۳ء تہجد کی تاکید اور اس کی برکات بیان فرمائے۔درود شریف بہتر کونسا ہے اس پر اپنا عمل اور درود شریف پڑھنے میں کسی پابندی کی ضرورت نہیں۔البتہ اخلاص محبت اور تضرع سے پڑھنا چاہئے اور اس وقت تک پڑھنا چاہئے کہ ایک حالت رقت اور بے خودی اور تاثر کی پیدا ہو جاوے اور سینہ میں ذوق اور انشراح پایا جائے۔مکتوب نمبر ۱۲۔مکتوبات احمد جلد ا صفحه ۵۲۶ مطبوعه ۲۰۰۸ء) (۹) مئی ۱۸۸۳ ء ایک مکتوب میں اپنی ایک رؤیا کا ذکر کر کے لکھا کہ عنایات الہیہ مسلمانوں کی اصلاح اور ترقی کی طرف متوجہ ہیں۔اور یقین کامل ہے کہ اس وقت قوت ایمان اور اخلاص اور تو کل کو جو مسلمانوں کو فراموش ہو گئے ہیں پھر خدا وند کریم یاد دلائے گا۔اور بہتوں کو اپنی خاص برکات سے متمتع کرے گا کہ ہر ایک برکت ظاہری اور باطنی اسی کے ہاتھ میں ہے۔اپنی فطرت کے اثرات میں بتایا کہ اس عاجز کی فطرت پر توحید اور تفویض الی اللہ غالب ہے اور معاملہ حضرت احدیت بھی یہی ہے کہ خود روی کے کاموں سے سخت منع کیا جاتا ہے یہ مخاطبت حضرت احدیت سے بار بار ہو چکی ہے۔لَا تَقْفُ مَالَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ وَلَا