حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 194 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 194

۱۹۴ جلد دوم حصہ دوم حیات احمد نواب صاحب کی طرف سے درخواست کی آپ نے اس کو منظور نہ فرمایا ہر چند عرض کیا گیا آپ راضی نہ ہوئے۔فرمایا میں نے رحم کر کے ان کے لئے دعا کر دی ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ اس عذاب سے بچ جائیں گے۔میرا یہ فعل شفقت کا نتیجہ ہے ایسے شخص کو جس نے اس کتاب کو اس ذلت کے ساتھ واپس کیا میں اب کسی قیمت پر بھی کتاب دینا نہیں چاہتا۔یہ میری غیرت اور ایمان کے خلاف ہے ان لوگوں کو جو میں نے تحریک کی تھی خدا تعالیٰ کے مخفی اشارہ کے ماتحت اور ان پر رحم کر کے کہ یہ لوگ دین سے غافل ہوتے ہیں براہین کی اشاعت میں اعانت ان کے گناہوں کا کفارہ ہو جاوے اور خدا تعالیٰ انہیں کسی اور نیکی کی توفیق دے۔ورنہ میں نے ان لوگوں کو کبھی امید گاہ نہیں بنایا۔ہماری امید گاہ تو اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہی کافی ہے۔حافظ صاحب کہتے تھے کہ پھر زیادہ زور دینے سے میں خود بھی ڈر گیا اور واپس چلا آیا حضرت کی دعا قبول ہو گئی اور نواب صاحب حکومت کے اخذ سے بچ گئے اور نوابی کا خطاب بھی بحال ہو گیا مگر جیسا کہ حضرت اقدس کے الفاظ سے معلوم ہوتا تھا کہ حکومت کے اخذ سے بچ جاویں گے وہ اس مصیبت سے بچائے گئے لیکن موت نے ان کا خاتمہ کر دیا۔نواب صدیق حسن خان کا واقعہ حضرت کی سیرت کے بہت سے پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہے۔آپ کی شفقت آپ کی غیرت دینی آپ پر توحید اور توکل کا غلبہ براہین کے لئے امراء کو تحریک، اعانت کی پاک غرض متاع دنیا سے زہد۔غرض بہت سی باتیں اس میں نمایاں ہیں۔۱۸۸۳ء کے بعض واقعات کی ڈائری اور نشانات ممکن اس عنوان کے نیچے میں کوئی مفصل ڈائری یا نشانات آپ کے نہیں دے رہا ہوں اور نہ ہی میں ہے بلکہ میرا مقصد یہ ہے کہ جن امور یا واقعات کے متعلق کوئی تاریخی ترتیب واقعات کی ہو سکے اس کا ذکر کر دوں۔ایسا ہی نشانات کے متعلق بھی میں کوئی تفصیلی تذکرہ نہیں کروں گا حضرت نے اپنی کتب میں تفصیل کے ساتھ لکھ دیا ہے میں ان کے حوالہ جات کو یکجائی طور پر لکھ جانا چاہتا ہوں۔ضروری نوٹ۔نواب صدیق حسن خان بھوپالی کے متعلق جو واقعات لکھے گئے ہیں اس سلسلہ میں اتنا اور یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت اقدس نے جب اس کے لئے دعا کی تو الہام ہوا تھا۔کہ سرکوبی سے اس کی عزت بچائی گئی۔(عرفانی)