حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 195
حیات احمد ۱۹۵ جلد دوم حصہ دوم ۲۲ جنوری ۱۸۸۳ء مطابق ۱۲؍ ربیع الاول ۱۳۰۰ھ ایک مکتوب اسمی میر عباس علی صاحب لود بانوی نے زمانہ حاضرہ کے اندرونی اور بیرونی فسادات کی تصویر پیش کی اور عہد نبوی علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت زمانہ کی جو حالت تھی اس کو پیش کر کے کمالات نبوت کے ختم کی حقیقت کو بیان کیا اپنے زمانہ کی خرابیوں کو پیش کر کے لکھا کہ ایسے دنوں میں خدا وند کریم کا یہ نہایت فضل ہے کہ اپنے عاجز بندہ کو اس طرف توجہ دی ہے۔اور دن رات اس کی مدد کر رہا ہے تا باطل پرستوں کو ذلیل اور رسوا کرے۔چونکہ ہر حملہ کی مدافعت کے لئے اس سے زبر دست حملہ چاہئے اور قوی تاریکی کے اٹھانے کے لئے قوی روشنی چاہئے اس لئے یہ امید کی جاتی ہے اور آسمانی بشارات بھی ملتے ہیں کہ خدا وند کریم اپنے زبر دست ہاتھ سے اپنے عاجز بندہ کی مدد کرے گا اور اپنے دین کو روشن کرے گا۔“ مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۱۱۵ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) (مکتوب نمبر۱۱) اس اقتباس سے بھی اس بصیرت اور معرفت کا پتہ لگتا ہے جو آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملی ہوئی بشارتوں کے متعلق تھی۔قابل غور یہ امر ہے کہ اس وقت تک آپ نے کوئی دعوی نہیں کیا۔لوگوں کی درخواستوں کے باوجود بیعت لینے سے انکار کیا۔اللہ تعالیٰ آپ کی شان ماموریت کا ایک علم آپ کو دے رہا تھا اور آپ جو کچھ خدا سے سنتے اسے پیش کر دیتے تھے۔مگر علی وجہ البصیرت اپنی کامیابی کا اعلان کرتے تھے۔۹ر فروری ۱۸۸۳ء مطابق ۳۰ / ربیع الاول ۱۳۰۰ھ میر عباس علی صاحب کو ایک مکتوب لکھا جس میں آپ نے اس زمانہ کے قرب کی بشارت دی جس میں آپ کی دعاؤں کی قبولیت کا ظہور ہو گا اور وہ اس طرح پر کہ نور محمدی اس زمانہ کے اندھوں پر ظاہر ہو اور الہی طاقتیں اپنے عجائبات دکھلا ئیں۔اسی مکتوب میں آپ نے اپنے صادق دوستوں کے متعلق لکھا کہ اس عاجز کے صادق دوستوں کی تعداد بھی تین چار سے زیادہ نہیں۔زمانہ کی زہر ناک ہوا کا ذکر کیا۔اور صادقوں کے لئے کس قدر غمزدہ رہے۔مکتوب نمبر۴ مکتوبات احمد جلد اصفحه ۵۱۳٬۵۱۲ مطبوعه ۲۰۰۸ء) (۳) ۱۷ فروری ۱۸۸۳ء پھر ایک مکتوب میں عہد حاضرہ کے فتنوں سے ڈرایا اور آخر تک