حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 193 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 193

حیات احمد ۱۹۳ جلد دوم حصہ دوم حضرت صاحب کو ایسے غصہ کی حالت میں نہیں دیکھا آپ کے چہرہ کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ کے قلب میں ناراضگی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔آپ بدستور ادھر ادھر ٹہلتے تھے اور خاموش تھے کہ یکا یک آپ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلے۔”اچھا تم اپنی گورنمنٹ کو خوش کر لو چند ماہ بھی نہ گزرے تھے کہ ان پر ریذیڈنٹ کی طرف سے ایک سیاسی مقدمہ قائم ہو گیا اور نوابی کا خطاب چھین لیا گیا۔الزامات نہایت خطرناک تھے سرلیپل گریفن جس نے رؤساء پنجاب لکھی ہے وہ ریذیڈنٹ تھا اور نواب صدیق حسن خان کے متعلق اس کی رائے نہایت خطرناک تھی۔مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔حافظ محمد یوسف نے مجھ سے کہا تھا کہ جب کوئی تدبیر کارگر ہوتی نظر نہ آئی تو میں نے مشورہ دیا کہ مرزا صاحب سے دعا کرائی جاوے۔چنانچہ مولوی ابوسعید محمد حسین نے ہی کہا اور مجھے بھی اس کام پر مقرر کیا گیا اور مولوی محمد حسین نے بھی سفارش کی کہ نواب صاحب پر آفت آجانے کی وجہ سے بہت بڑا نقصان ہو گا اور ان کی دینی خدمات کو پیش کیا۔حافظ صاحب کہتے ہیں کہ میں نے جب حاضر ہو کر عرض کیا تو حضرت اقدس نے اوّلاً دعا کرنے سے انکار کر دیا اور براہین کا واقعہ بیان کر کے یہ بھی فرمایا کہ وہ خدا کی رضا پر گورنمنٹ کی رضا کو مقدم کرنا چاہتے تھے اب گورنمنٹ کو راضی کر لیں۔موحد ہونے کا دعوی کر کے ایک زمینی حکومت سے خوف اور وہ بھی دین کے مقابلہ میں جس میں خود اس حکومت نے ہر قسم کی آزادی دے رکھی ہے۔اس پر بہت دیر تک تقریر کرتے رہے۔چونکہ مجھ پر مہربانی فرماتے تھے اور میں نے بھی پیچھا نہ چھوڑا۔عرض کرتا ہی رہا نواب صاحب کی طرف سے معذرت بھی کی۔آخر حضرت صاحب نے دعا کرنے کا وعدہ فرمالیا اور میں تو اسی غرض کے لئے آیا تھا۔جب تک آپ نے دعا نہ کر دی اور یہ نہ فرمایا کہ میں نے دعا کر دی ہے۔وہ تو بہ کریں خدا تعالیٰ تو بہ قبول کرنے والا ہے وہ رحم فرمائے گا حکومت کے اخذ سے وہ بچ جاویں گے (میں یہ کہتا ہوں کہ یہ حضرت اقدس کے ارشاد کا مفہوم ہے جو حافظ صاحب نے بیان کیا۔عرفانی اس کے بعد میں نے براہین احمدیہ کی خریداری کے لئے