حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 172 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 172

حیات احمد ۱۷۲ جلد دوم حصہ دوم پنڈت دیا نند نے کتاب تو طلب نہیں کی اور نہ ہی راستی اور صدق کے راہ سے جواب لکھا بلکہ ان لوگوں کی طرح جو شرارت اور تمسخر سے گفتگو کرنا اپنا ہنر سمجھتے ہیں۔آریہ سماج نے پنڈت دیانند جی کی بہت بڑی لائف لکھی ہے مگر حضرت اقدس سے خط و کتابت اور آپ کی دعوت اسلام بلکہ پنڈت دیانند کی خبر وفات کی پیشگوئی وغیرہ کا کوئی ذکر نہیں کیا اور باوجود یکہ ایک عرصہ سے یہ باتیں شائع ہو چکی ہیں کوئی تردید بھی وہ نہیں کر سکے پنڈت دیا نند صاحب پر حضرت کی طرف سے بالتفصیل اتمام حجت ان کے عقائد کے متعلق ہوا۔اور یہ خط بھی خصوصیت سے لکھے گئے۔بقیہ حاشیہ: یعنی جیو اور اُن کی روحانی قوتیں اور استعداد میں اور ایسا ہی تمام اجسام صغار یعنی پر گرتی خود بخود انادی طور پر قدیم سے چلے آتے ہیں اور تمام ہنر یعنی گن جو اُن میں ہیں وہ خود بخود ہیں۔اور اس فیصلہ کو صرف عقلی طور پر نہیں چھوڑا بلکہ اسلام کے پاک گروہ میں وہ آسمانی نشان بھی ثابت کئے ہیں جو کہ خدا کی برگزیدہ قوم میں ہونے چاہئیں۔اور ان نشانوں کے گواہ صرف مسلمان لوگ ہی نہیں بلکہ کئی آریہ سماج والے لوگ بھی گواہ ہیں اور بفضل خداوند کریم دن بدن لوگوں پر کھلتا جاتا ہے کہ برکت اور روشنی اور بقیہ حاشیہ صفحہ ۱۶۴: - کا خلاصہ صرف اس قدر تھا کہ مجھ کو خدا تعالیٰ نے حقیقت اسلام پر یقین کامل بخشا ہے اور ظاہری اور باطنی دلائل سے مجھ کو کھول دیا ہے کہ دنیا میں سچا دین دین محمد کی ہے۔اور اسی جہت سے میں نے محض خیر خواہی خلق اللہ کی رو سے کتاب کو تالیف کیا ہے۔اور اس میں بہت سے دلائل سے ثابت کر کے دکھلایا ہے کہ تعلیم حقانی محض قرآنی تعلیم ہے۔پس کوئی وجہ نہیں کہ میں آپ کے پاس حاضر ہوں بلکہ اس بات کا بوجھ آپ کی گردن پر ہے کہ جن قومی دلیلوں سے آپ کے مذہب کی بیخ کنی کی گئی ہے ان کو توڑ کر دکھلا دیں یا ان کو قبول کریں اور ایمان لاویں اور میں ہر وقت کتاب کو مفت دینے کو حاضر ہوں۔اس خط کا کوئی جواب نہیں آیا۔انشاء اللہ اسی حصہ چہارم میں ان کے مذہب اور اصول کے متعلق بہت کچھ لکھا جائے گا اور آپ اگر خط کو چھپوا دیں تو آپ کو اختیار ہے۔مولوی عبد القادر صاحب کی خدمت میں اور نیز قاضی خواجہ علی صاحب کی خدمت میں سلام مسنون پہنچے۔(۱۵ر جون ۱۸۸۳ء بمطابق ۹ر شعبان ۱۳۰۰ ھ۔مکتوبات احمد جلد اصفحه ۵۳۶ مطبوعه ۲۰۰۸ء)