حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 173 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 173

حیات احمد ۱۷۳ جلد دوم حصہ دوم پنڈت دیانند پر آخری حجت اور ان کی موت کی پیشگوئی پنڈت دیا نند کی جرأت اور قابلیت کا ان کے معتقد بہت کچھ شور مچاتے ہیں مگر یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ حضرت کے مقابلہ میں آنے کی ان کو جرات نہیں ہوئی۔حضرت نے پورے طور پر اتمام حجت کیا اور ان واقعات کو پبلک میں شائع کر دیا۔انہیں ایام کے مذہبی رسائل یا بعض اخبارات میں یہ مباحث شائع ہوئے۔خود حضرت نے ۱۸۸۴ء میں براہین احمدیہ کی چوتھی جلد کے صفحہ ۵۳۱ میں شائع فرمائے اور اس طرح پر قریباً نصف صدی ان واقعات پر گزری ہے۔اور پنڈت دیانند جی کے جیون چرتر کی تحقیقات اور تکمیل کا سلسلہ برابر جاری ہے مگر ان واقعات کی تردید کا حوصلہ کسی کو نہیں ہو سکا۔حضرت نے براہین احمدیہ کی جلد چہارم کے حاشیہ نمبر 1 میں صفحہ ۵۳۱ سے ۵۳۷ تک اس کو بیان کیا ہے اس میں حضرت نے صاف طور پر دو مرتبہ رجسٹری شده خطوط بقیہ حاشیہ:- صداقت صرف قرآن شریف میں ہے۔اور دوسری کتابیں ظلمت اور تاریکی سے بھری ہوئی ہیں۔لہذا یہ خط آپ کے پاس رجسٹری کرا کر روانہ کرتا ہوں اگر آپ کتاب براہین احمدیہ کے مطالعہ کے لئے مستعد ہوں تو میں وہ کتاب مفت بلا قیمت آپ کو بھیج دوں گا۔آپ اس کو غور سے پڑھیں اگر اس کے دلائل کو لاجواب پاویں تو حق کے قبول کرنے میں توقف نہ کریں کہ دنیا روزے چند۔آخر کار با خداوند۔میں ابھی اس کتاب کو بھیج سکتا تھا۔مگر میں نے سنا ہے کہ آپ اپنے خیالات میں محو ہور ہے ہیں اور دوسرے شخص کی تحقیقاتوں سے فائدہ اٹھانا ایک عار سمجھتے ہیں سو میں آپ کو دوستی اور خیر خواہی کی راہ سے لکھتا ہوں کہ آپ کے خیالات صحیح نہیں ہیں۔آپ ضرور ہی میری کتاب کو منگا کر دیکھیں۔امید کہ اگر حق جوئی کی راہ سے دیکھیں گے تو اس کتاب کو پڑھنے سے بہت سے حجاب اور پردے آپ کے دور ہو جائیں گے اور اگر آپ اردو عبارت نہ پڑھ سکیں تاہم کسی لکھے پڑھے آدمی کے ذریعہ سمجھ سکتے ہیں۔آپ اپنے جواب سے مجھ کو اطلاع دیں۔اور جس طور سے آپ تسلی چاہیں خداوند قادر ہے۔صرف سچی طلب اور انصاف اور حق جوئی درکار ہے جواب سے جلد تر اطلاع بخشیں کہ میں منتظر ہوں۔اور اگر آپ خاموش رہیں تو پھر اس سے یہی سمجھا جائے گا کہ آپ کو صداقت اور روشنی اور راستی سے کچھ غرض نہیں ہے۔“ ۲۰ را پریل ۱۸۸۳ء مطابق ۱۲؍ جمادی الثانی ۱۳۰۰ھ مکتوبات احمد یہ جلد دوم صفحہ ۱ تا ۳۔مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۱۵۰،۱۴۹ مطبوعہ ۲۰۰۸ء)