حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 171 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 171

حیات احمد جلد دوم حصہ دوم دعوتِ اسلام دی بلکہ خدا تعالیٰ کی عجیب در عجیب قدرتوں کے دکھانے کے لئے بھی آمادگی کا اظہار فرمایا تھا تا کہ پورے طور پر صداقت اسلام ظاہر ہو آپ نے دلائل اور براہین تک معاملہ کو نہیں رہنے دیا بلکہ خوراق اور اعجاز تک بات کو پہنچایا لیکن پنڈت دیانند اس معاملہ سے محروم رہے اور انہوں نے اس خط کے جواب میں کوئی معقول بات پیش نہیں کی جیسا کہ اس مکتوب سے معلوم ہوتا ہے حضرت اقدس نے لکھا تھا کہ وہ کتاب براہین احمدیہ مفت منگوا لیں نیز ان کو خدا تعالیٰ کی قدرتوں کے عجائبات کے مشاہدہ کی بھی دعوت دی تھی مگر اُس نے ان باتوں سے اعراض کیا۔میر عباس علی صاحب اور ہانوی نے حضرت اقدس سے بذریعہ خط یہ استفسار کیا تھا کہ پنڈت دیانند نے مکتوب مورخہ ۲۰ / اپریل ۱۸۸۳ء کا کیا جواب دیا۔اور کیا براہین احمدیہ اس نے منگوائی تو حضرت اقدس نے میر صاحب کو جو خط ۱۵/ جون ۱۸۸۳ء کولکھا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ بقیہ حاشیہ: - نقصان سے اور واحد ہے اپنی ذات میں اور صفات میں اور الوہیت میں اور معبودیت میں۔نہیں مشابہ اس سے کوئی چیز۔اور نہیں جائز کسی چیز سے اس کا اتحاد اور حلول۔مگر افسوس کہ آپ کا اعتقاد سراسر اس کے برخلاف ہے اور ایسی روشنی چھوڑ کر تاریکی ظلمت میں خوش ہورہے ہیں۔اب چونکہ میں نے اس روشنی کو آپ جیسے لوگوں کی سمجھ کے موافق نہایت صاف اور سلیس اردو میں کھول کر دکھلایا ہے اور اس بات کا قطعی فیصلہ کر دیا ہے کہ آپ لوگ ایک سخت ظلمت میں پڑے ہوئے ہیں یہاں تک کہ جس کے سہارے پر تمام دنیا جیتی ہے اُس کی نسبت آپ کا یہ اعتقاد ہے کہ وہ تمام فیضوں کا مبدء نہیں اور تمام ارواح کے حاشیہ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی صاحب سلمہ اللہ تعالی۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔بعد ہذا آنمخدوم کے وہ عنایت نامے دوسرے بھی پہنچ گئے۔الحمد للہ کہ کام طبع کا شروع ہے۔یہ سب اسی کریم کی عنایات اور تفضلات ہیں کہ اس ناکارہ اور عاجز کے کاموں کا آپ متوتی ہو رہا ہے۔اگر ہر موئے من گردد زبانے از ورانم بهر یک داستانے کے پنڈت دیا نند نے کتاب طلب نہیں کی اور نہ راستی اور صدق کے راہ سے جواب لکھا بلکہ ان لوگوں کی طرح جو شرارت اور تمسخر سے گفتگو کرنا اپنا ہنر سمجھتے ہیں۔ایک خط بھیجا ایک اور خط رجسٹری کرا کر بھیجا گیا۔جس کے ترجمہ:۔اگر میرا ہر بال زبان بن جائے تو میں ہر زبان سے تیری محبت کی داستان بیان کرتا رہوں گا۔