حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 154
حیات احمد ۱۵۴ جلد دوم حصہ دوم قیام فرمایا۔لیکن اس کے بعد آپ کا معمول یہ تھا کہ جب آپ لودر ہانہ تشریف لاتے تو آپ ایک بڑا مکان کرایہ پر لے لیتے اور وہاں قیام فرماتے اس لئے کہ کثرت سے آپ کے خدام آ جایا کرتے تھے اور ایک قسم کا لنگر خانہ جاری ہو جاتا تھا۔مخالفت کی ابتدا اگر چہ اس وقت تک آپ نے کوئی دعوی نہیں کیا تھا اور نہ آپ ( باوجود یکہ لوگ درخواستیں کرتے تھے ) بیعت لیتے تھے اور آپ کی زندگی کا مقصد عظیم اس وقت مخالفین اسلام کے اعتراضات کا جواب اور صداقت اسلام کا علمی اور عملی اظہار تھا۔لیکن لودہانہ ہی وہ مقام ہے جہاں سے مخالفت کی آگ سلگنے لگی۔لودہا نہ میں مولوی عبد العزیز مولوی عبد اللہ مولوی محمد حنفی تین بھائی تھے۔اس وقت ان کا لودہانہ اور دوسرے قرب و جوار کے اضلاع اور علاقہ پر بہت بڑا اثر تھا۔وہ غالی حنفی تھے اور عبدالعزیز ایک خوش بیان واعظ اور صوفی نما پیر تھا۔غدر ۱۸۵۷ء میں ان لوگوں پر کچھ الزامات بھی تھے انہوں نے جب دیکھا کہ لودہانہ میں آپ کی قبولیت بڑھتی جاتی ہے تو ان کو اپنی حکومت کی فکر ہوئی اور اس کے لئے جو ہتھیار ان کے پاس استعمال کے لئے رکھا ہوا تھا وہ تکفیر ہی کا فتویٰ ہو سکتا تھا۔ابھی تک حضرت صاحب اور ہانہ بھی تشریف نہ لے گئے تھے مگر یہ مولوی صاحبان دیکھ رہے تھے کہ یہ سلسلہ ترقی کرے گا۔ان کی اس نظر دور بین کی داد دینی چاہئے غرض اس قبولیت کو دیکھ کر ان میں ایک اضطراب اور جوش پیدا ہوتا جاتا تھا اور وہ اپنے وعظوں اور تقریروں میں کچھ حملے کرتے رہتے تھے۔جب انہیں معلوم ہوا کہ آپ لودہا نہ تشریف لا رہے ہیں تو اس مخالفت میں اور بھی ترقی ہو گئی۔اور جب آپ لودہا نہ پہنچے اور انہیں اس احترام و قبولیت کا پتہ چلا جولوگوں کے دل میں پیدا ہوئی اور اس کا عملی مظاہرہ ہوا تو ان کے جوش وغضب کی کوئی انتہا نہ رہی اور آخر وہ کھلم کھلا مخالفت پر اتر آئے اور ان مولوی صاحبان نے سب سے پہلا محاذ مخالفت قائم کیا۔