حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 155 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 155

حیات احمد جلد دوم حصہ دوم قدرتی طور پر میر عباس علی صاحب اور دوسرے دوستوں کو اس سے تشویش ہوئی اور چونکہ وہ ان مولوی صاحبان کے حالات سے بخوبی واقف تھے اس لئے وہ اس فتنہ کا جو ان کے ذریعہ پیدا ہوسکتا تھا تصور کر کے گھبراتے تھے اور انہوں نے نہایت پریشانی کے خطوط حضرت کو لکھے مگر آپ نے ان کو ایک مکتوب میں لکھا کہ آنمخدوم کا خط بعد واپسی از امرتسر مجھ کو ملا۔آنمخدوم کچھ فکر اور تر ڈد نہ کریں اور یقیناً سمجھیں کہ وجود مخالفوں کا حکمت سے خالی نہیں۔بڑی برکات ہیں کہ جن کا ظاہر ہونا معاندوں کے عنادوں پر ہی موقوف ہے اگر دنیاوی معاند اور حاسد اور موذی لوگ نہ ہوتے تو بہت سے اسرار اور برکات مخفی رہ جاتے۔کسی نبی کے برکات کامل طور پر ظاہر نہ ہوئے جب تک وہ کامل طور پر ستایا نہیں گیا۔اگر لوگ خدا کے بندوں کو کہ جو اس کی طرف سے مامور ہو کر آتے ہیں یونہی ان کی شکل دیکھ کر قبول کر لیتے تو بہت سے عجائبات تھے کہ ان کا دنیا میں ظہور نہ ہوتا۔“ ( مکتوب محرّره ۲۶ / فروری ۱۸۸۴ء مکتوبات احمد جلد اوّل صفحه ۵۹۸ مطبوعه ۲۰۰۸ء) اس مکتوب سے آپ کا عزم و استقلال اور مخالفت پر ثبات قدم نمایاں ہے مجھے آپ کی سیرت کے ان پہلوؤں کو بیان نہیں کرنا بلکہ صرف یہ دکھانا ہے کہ مخالفت کی آگ ۱۸۸۳ء میں ہی سلگنی شروع ہو گئی اور جس طرح لاود ہانہ کو یہ خصوصیت ہے کہ قبولیت کا آغاز بھی یہاں سے ہوا مخالفت کی ابتدا بھی اس جگہ سے ہوئی اور یہاں ہی سے اس حقیقت کا اظہار ہوا۔کوئی پا جائے گا عزت کوئی رسوا ہو گا اور ہانہ کی مخالفت کے اسباب پر ایک مخالف کی رائے لودہانہ کے مولویوں کی مخالفت کے متعلق یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ میں ایک سلسلہ کے مخالف کی رائے بھی یہاں درج کر دوں اس مخالف سے میری مراد مولوی ابوسعید محمد حسین بٹالوی ہے۔اس میں شک نہیں کہ ان ایام میں وہ مخالف الرائے نہ تھے لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ