حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 153 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 153

حیات احمد ۱۵۳ جلد دوم حصہ دوم کے لئے امرتسر براہین احمدیہ کی طباعت کے کام کی نگرانی کے لئے تشریف لے گئے تھے اس وقت بھی آپ کا ارادہ تھا کہ ایک دو دن کے لئے اور ہا نہ جائیں چنانچہ ۹ نومبر ۱۸۸۳ء کو جومکتوب آپ نے میر عباس علی صاحب کو لکھا اس میں تحریر فرمایا کہ :۔یہ عاجز چند روز سے ملاحظہ کام طبع کتاب کے لئے امرتسر چلا گیا تھا آج واپس آکر آنمخدوم کا خط ملا۔یہاں سے ارادہ کیا گیا تھا کہ امرتسر جا کر بعد اطلاع دہی ایک دو دن کے لئے آپ کی طرف آؤں مگر چونکہ کوئی ارادہ بغیر تائید الہی انجام پذیر نہیں ہو سکتا اس لئے یہ خاکسار امرتسر جا کر کسی قدر علیل ہو گیا۔ناچارا رادہ ملتوی کیا گیا۔سو اس طرح خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک روک واقع ہوگئی اس کے کام حکمت سے خالی نہیں ( مکتوب مورخه ۹ نومبر ۱۸۸۳ء مکتوبات احمد جلد اوّل صفحه ۵۸۱ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ان تمام امور پر یکجائی نظر کے بعد یہ فیصلہ آسان اور صحیح ہے کہ اود ہانہ کا سب سے پہلا سفر ۱۸۸۴ء میں ہوا ہے گو میں ابھی تک صحیح تاریخ اس سفر کے متعلق متعین نہیں کر سکا ہوں لیکن قرائن قویہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ۱۸۸۴ء کی پہلی سہ ماہی میں تشریف لے گئے تھے ترتیب واقعات کے لحاظ سے دسمبر ۱۸۸۳ء میں اس سفر کے ارادے اور ان ارادوں کے فسخ ہونے تک کا ذکر کر کے میں چھوڑ دیتا۔اور پھر ۱۸۸۴ء کے واقعات میں سفر لودہانہ کے حالات بیان کرتا۔لیکن ایک غیر مرتب امر ہو جاتا۔واقعات کی تعمیل کو میں نے مدنظر رکھ لیا۔قیام لو د ہانہ کے ان ایام میں خلقت کا عام طور پر آپ کی طرف بہت رجوع تھا۔لودہانہ میں آپ نے اپنے معمولات کو ترک نہیں کیا، نمایش اور ریا کاری کے طور پر خانہ نشین ہو کر نہیں رہے بلکہ اپنے معمول کے موافق ہوا خوری کو بھی نکلتے تھے۔اس مرتبہ تو آپ لوگوں کی بہت سی درخواستوں اور التجاؤں کے بعد تشریف لائے تھے اور آپ ان کے مہمان تھے جہاں انہوں نے چاہا آپ نے