حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 144
حیات احمد ママ جلد دوم حصہ دوم زندگی میں اس کے سوا کوئی چیز آپ کا مقصد زندگی نہیں رہا۔آپ کی ابتدائی زندگی کے دیکھنے والوں نے اسی کی شہادت دی اور آپ کی ماموریت کے بعد کی زندگی کے دیکھنے والوں نے اسے مشاہدہ کیا۔چنانچہ خود راقم الحروف نے بھی خدا کے فضل سے ایک شاہد عینی کی حیثیت سے اسے دیکھا۔یہ سلسلہ ایسی درخواستوں کا برابر جاری رہا اور حضرت اقدس اسی قسم کے جواب دیتے رہے بقیہ حاشیہ در حاشیہ۔کرتے تھے ایک شعر اس وقت یاد آ گیا۔نبی کی نعت لکھیں گے شریر اک اور بھی ہم تو بڑی راتیں ہیں جاڑوں کی بھلا کرتے ہیں کیا بیٹھے ابتدائی تعلیم سلوک کی منزلیں ضلع گورداسپور ہی کے ایک مقام رنز چھتہ میں طے کی تھیں اور ان کی تکمیل بھی گورداسپور ہی کے ضلع میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر ہوئی ان کا تذکرہ ایک مبسوط اور جدا گانہ تالیف کا مقتضی ہے۔وہ علم توجہ میں بہت بڑے ماہر تھے اس فن پر طب روحانی اور رسالہ علم توجہ کے نام سے آپ نے ایک سلسلہ تالیفات شروع کیا تھا لیکن طب روحانی کی پہلی جلد کے بعد جب حضرت اقدس کی مشہور کتاب براہین احمدیہ کی اشاعت کے بعد اس کے عدم ضرورت کا اعلان کیا۔آپ کا سارا خاندان بیعت میں داخل ہو گیا اور آپ کے دونوں صاحبزادے حضرت پیر افتخار احمد صاحب اور صاحبزادہ منظور محمد صاحب ہجرت کر کے قادیان آ گئے۔صاحبزادہ افتخار احمد صاحب کو حضرت کے حضور رہنے کی سعادت حاصل ہوئی کہ وہ آپ کے صیغہ ڈاک میں کام کرتے تھے اور صاحبزادہ منظور محمد صاحب کو بھی قرب کی دولت عطا ہوئی کہ وہ آپ کی تصنیفات کی کتابت کرتے تھے اور بعض صاحبزادگان کی تعلیم قرآن کریم کا شرف بھی آپ کو ملا اور اسی سلسلہ تعلیم میں وہ قرآن مجید کے جدید رسم الخط اور قاعدہ میسرنا القرآن کی تالیف کے موجد ہو گئے۔آپ کی صاحبزادیوں میں ایک (اصغری بیگم ) کو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں آنے کا شرف عطا ہوا حضرت منشی احمد جان صاحب رضی اللہ عنہ کی بیوی بھی نہایت مخلصہ اور شب زندہ دار خاتون تھیں اور ان کی زندگی کا آخری حصہ قادیان ہی میں گزرا اور یہاں ہی وہ اپنے مولیٰ کریم سے