حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 143
حیات احمد ۱۴۳ جلد دوم حصہ دوم دل کے کسی گوشہ میں کوئی ایسا جذبہ نہ ہو جو للہیت اور رضائے الہی کے خلاف ہو یا اس میں ریا اور نمائش اور دنیا کی عظمت کی خواہش کو لئے ہوئے۔اور ان سب سے بڑھ کر آپ کے مدنظر اور مقدم جو امر تھا وہ خدمت اسلام تھی اپنی زندگی کا ایک نفس بھی اس عملی مقصد کے بغیر آپ گزارنا نہیں چاہتے تھے۔یہی ایک چیز ہے جو حضرت کی زندگی میں ابتدا ہی سے نظر آتی ہے۔کسی حالت اور کسی حصہ بقیہ حاشیہ:۔دے دیا گیا۔یاد ایام نے اس مقام پر مجھے کچھ غم زدہ کر دیا۔دل میں ایک درد اٹھا آنکھوں میں آنسو بھر آئے بیٹھے بیٹھے کیا جانئے ہمیں کیا یاد آیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ابتدائی صحبتیں اور مجلسیں آنکھوں کے سامنے آگئیں ان کی یاد ایک غم افزا مسرت سے ملی ہوئی ہے انہیں ایام میں مجھے حضرت مولوی عبدالکریم۔حضرت حکیم الامت۔حضرت حافظ حامد علی رضی اللہ عنہم سے ایک تعلق محبت و اخلاص پیدا ہوا۔حضرت مخدوم الملۃ اور حکیم الامتہ کی نظروں نے اس کیفیت کو عملی رنگ دے دیا جو حضرت اقدس کی کیمیا اثر سے پیدا ہوئی تھی ان مجلسوں کے تذکرے اور سوال و جواب تک مجھے اپنے رنگ میں یاد ہیں۔اور ان ایام کی یاداب بھی جبکہ میں بمبئی میں بیٹھا ہوا یہ حالات لکھ رہا ہوں دل میں چٹکیاں لیتی ہے اور معلوم ہوتا ہے۔بقیہ حاشیہ در حاشیہ۔خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا یا سنا افسانہ تھا (عرفانی) ایک مبسوط اور مخنیم جدا گانہ تالیف کا مقتضی ہے اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا توفیق دے گا اور وہ اس خدمت کو سرانجام دے گا۔اس مقام کے حسب حال ان کا تذکرہ کافی ہے کہ وہ اور ہانہ میں اپنی عملی زندگی کے لحاظ سے ایک نمایاں شہرت رکھتے تھے ان کے مریدوں کا سلسلہ بھی بہت وسیع تھا عام طور پر وہ ایسے صوفیوں میں سے نہ تھے جو مختلف قسم کی بدعات اور منہیات شرعیہ میں مبتلا ہو کر اسے بھی اپنے تصوف و کمال کا ایک شعبہ قرار دیتے رہتے ہیں بلکہ وہ ایک با عمل متبع سنت بزرگ تھے اہلِ بدعت سے ہمیشہ متنفر تھے اور احکام شرعیہ کی پابندی اور ان پر عمل ضروری سمجھتے تھے۔نعت گوئی کا بھی ایک خاص شوق تھا شریر تخلص