حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 145 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 145

حیات احمد ۱۴۵ جلد دوم حصہ دوم پھر ایک مکتوب میں آپ نے مولوی عبد القادر صاحب کو لکھوایا جبکہ وہ خود قادیان آنا چاہتے تھے تا کہ آپ کو لو د ہا نہ لانے کے لئے زور دیں آپ نے لکھا کہ :۔مولوی صاحب کا اس جگہ تشریف لانا بے وقت ہے یہ عاجز حصہ چہارم کے کام سے کسی قدر فراغت کر کے اگر خدا نے چاہا اور نیت صحیح میسر آ گئی تو غالب امید کی جاتی ہے کہ آپ ہی حاضر ہوگا۔وَالْاَ مُرُ كُلُّهُ بِيَدِ اللَّهِ وَمَا أَعْلَمُ مَايُرِيدُ فِي الْغَيْبِ“۔بالآخر ۱۹؍ دسمبر ۱۸۸۳ء کو آپ نے ایک مکتوب کے ذریعہ میر عباس علی صاحب کو مطلع فرمایا کہ میں ایک دن کے لئے اور ہا نہ آؤں گا۔یہ سفر بھی اتفاقاً پیش آیا تھا اور امرتسر کا تھا اسی کے ضمن میں آپ نے ارادہ کیا کہ احباب لودہانہ کی متواتر درخواستوں کو ایک دن کے قیام لودہانہ کے ذریعہ پورا کر دیا جائے۔بقیہ حاشیہ در حاشیہ۔جاملیں اور اسی سرزمین میں ان کا مزار ہے۔حضرت منشی احمد جان صاحب کے متعلق حضرت اقدس نے اپنی قلم مبارک سے تحریر فرمایا:۔حبي في الله منشی احمد جان صاحب مرحوم کے متعلق اس وقت ایک نہایت غم سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ یہ پر درد قصہ مجھے لکھنا پڑا کہ اب یہ ہمارا پیارا دوست اس عالم میں موجود نہیں ہے اور خدا وند کریم ورحیم نے بہشت بریں کی طرف بلایا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ وَإِنَّا بِفِرَا قِهِ لَمَحْزُونُون حاجی صاحب مغفور و مرحوم ایک جماعت کثیر کے پیشوا تھے اور ان کے مریدوں میں آثار رشد و سعادت و اتباع سنت نمایاں ہیں اگر چہ حضرت موصوف اس عاجز کے شروع سلسلہ بیعت سے پہلے ہی وفات پا چکے لیکن یہ امران کے خوارق میں سے دیکھتا ہوں کہ انہوں نے بیت اللہ کے قصد سے چند روز پہلے اس عاجز کو ایک خط ایسے انکسار سے لکھا جس میں انہوں نے در حقیقت اپنے تئیں اپنے دل میں سلسلہ بیعت میں داخل کر لیا چنانچہ انہوں نے اس میں سیرت صالحین پر اپنا تو بہ کا اظہار کیا اور اپنی مغفرت کے لئے دعا چاہی اور لکھا کہ میں آپ کی لٹھی ربط کے زیر سایہ اپنے تئیں سمجھتا ہوں اور پھر لکھا کہ میری زندگی کا نہایت عمدہ حصہ یہی ہے کہ میں آپ کی جماعت میں داخل ہو گیا ہوں اور پھر کسر نفسی کے طور پر اپنے