حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 142
حیات احمد ۱۴۲ جلد دوم حصہ دوم اس مکتوب سے عیاں ہے کہ آپ کا کوئی سفر اللہ تعالیٰ کے اذن اور ارادے کی تعمیل کے سوا نہیں تھا اور محض سیر و تفریح کے لئے آپ کہیں جانا نہ چاہتے تھے اور حمایت دین اور مخالفین اسلام کے حملوں کے دفاع کو آپ سب کاموں پر مقدم فرماتے تھے۔لود ہانہ کے دوستوں کا اصرار حضرت کی طلبی کے متعلق نہایت اخلاص اور محبت سے بڑھ رہا تھا۔اُدھر حضرت کی یہ حالت تھی کہ آپ ان کے اخلاص اور الہی محبت کے جذبات کی قدر کرتے تھے اور ان کی ایک خواہش کے پورا کرنے میں بھی مسرت پاتے تھے مگر آپ کے مدنظر یہ امر تھا کہ اس سفر کے لئے بقیہ حاشیہ۔ازالہ اوہام کو شائع کیا۔نہایت افسوس کے ساتھ یہ بھی لکھتا ہوں کہ یہی وہ مقام ہے جہاں سب سے پہلا انسان مرتد ہوا اور اسی جگہ سے ایک اور بدقسمت نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اخراجات سلسلہ کے متعلق اعتراضی خط لکھا اور اس طرح پر وہ پیشگوئیاں پوری ہو گئیں جو ایسے لوگوں کے متعلق قبل از وقت لکھی گئی تھیں بہر حال لود ہانہ سلسلہ کی تاریخ میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔میں ہمیشہ اسے اللہ تعالیٰ کا فضل یقین کرتا رہا ہوں کہ بیعت کا سلسلہ اسی محلہ سے شروع ہوا بلکہ اسی کوچہ سے ہوا جہاں راقم الحروف نے اپنی عمر کا ایک حصہ گزارا ہے۔محلہ کی جس مسجد میں حضرت اپنی۔نمازیں دوران قیام میں ادا فرمایا کرتے تھے میں اسی میں ادائے نماز کی تو فیق پاتا تھا۔وہ مسجد وہ محلہ اور وہ مکان ( جہاں حضرت اپنے ایام قیام میں نیل تھے ) ایک تاریخی حیثیت رکھتے ہیں اور جس مکان میں بیعت کا آغاز ہوا۔وہ تو الحمد للہ اب سلسلہ کے قبضہ میں ہے اور دَارُ الْبَيْعَتْ کے نام سے موسوم ہے سلسلے کے آنے والے زمانے میں ایک وقت اس پر نہایت شاندار عمارت ہو گی اور دنیا کے ہر گوشہ سے آنے والے لوگ اس مقام پر یقیناً جانے کی سعادت حاصل کیا کریں گے۔غرض اس طرح پر سلسلہ کی عملی بنیاد اور ہانہ ہی میں رکھی گئی۔اس لئے کہ سلسلہ بیعت وہاں ہی سے شروع ہوا۔یہ مکان محلہ نو میں حضرت منشی احمد جان صاحب رضی اللہ عنہ کے مکان کا ایک حصہ ہے جو بعد میں سلسلہ کو ے حاشیہ در حاشیہ:۔حضرت منشی احمد جان صاحب رضی اللہ عنہ ایک مشہور و معروف صاحب ارشادصوفی تھے ان کا تذکرہ