حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 141 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 141

حیات احمد ۱۴۱ جلد دوم حصہ دوم اس عاجز کا آنا ملتوی رہنے دیں آپ کے تشریف لے جانے کے بعد چند ہندؤوں کی طرف سے سوالات آئے ہیں ایک ہند وصوابی ضلع پشاور میں کچھ لکھ رہا ہے۔پنڈت شونرائن بھی شاید عنقریب اپنا رسالہ بھیج دے گا۔چاروں طرف سے مخالف جنبش میں آرہے ہیں غفلت کرنا اچھا نہیں اب دل ٹھہر نے نہیں دیتا کہ اس ضروری اور واجب کام کو چھوڑ کر اور طرف خیال کروں إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ رَبِّی۔اگر خدا نے چاہا تو آپ کا شہر کسی دوسرے وقت دیکھ لیں گئے“۔بقیہ حاشیہ۔ہوشیار پور کا سفر ایک خاص مجاہدہ کے لئے تھا اس کا ذکر میں ۱۸۸۶ء کے واقعات میں انشاء اللہ العزیز کروں گا۔وہ دعا ئیں جو ہوشیار پور میں خصوصیت سے آپ نے کیں ان دعاؤں کی قبولیت کا ظہوران بیشتر الہامات اور پیشگوئیوں کے پورا ہونے سے ہوا جو حضرت مصلح موعود کی پیدائش کی صورت میں مقدر تھا۔لوگ ایک عرصہ سے آپ کو بیعت لینے کے لئے عرض کر رہے تھے آپ نے ہمیشہ ایسے طالبین کو یہ کہا کہ میں اس غرض کے لئے ابھی مامور نہیں ہوں اور آخر جب خدا تعالیٰ کی وحی نے آپ کو بیعت لینے کے لئے مامور فرمایا تو آپ نے بیعت کے لئے اعلان کر دیا اور بیعت کا آغاز لودہانہ سے ہوا چنانچه ۴ / مارچ ۱۸۸۹ء کو گزارش ضروری کے عنوان سے جو اعلان بیعت کرنے والوں کے لئے آپ نے مطبع ریاض ہند امرتسر میں چھپوا کر شائع فرمایا اس میں صاف لکھا ہے کہ ” تاریخ ہذا سے جوم / مارچ ۱۸۸۹ ء ہے ۲۵ / مارچ ۱۸۸۹ء تک یہ عاجز لو ہانہ محلہ جدید میں مقیم ہے اس عرصہ میں اگر کوئی صاحب آنا چاہیں تو لودہانہ میں ۲۰ / تاریخ کے بعد آ جاویں اور اگر اس جگہ آنا موجب حرج و دقت ہو تو ۲۵ مارچ کے بعد جس وقت کوئی چاہے بعد اطلاع دہی بیعت کرنے کے لئے قادیان حاضر ہو جاوے۔“ اس اشتہار کے آخر میں جو آپ نے لکھا ہے وہ یہ ہے خاکسار غلام احمد اور ہانہ محلہ جدید متصل مکان اخی مکر می نشی احمد جان صاحب مرحوم و مغفور۔پھر لودہانہ ہی وہ مقام ہے جہاں سے آپ نے مسیح موعود کے دعوئی کا اعلان کیا اور یہی وہ مقام ہے جہاں مولوی محمد حسین بٹالوی کو خطر ناک شکست ہوئی اور اسی جگہ سے آپ نے فتح اسلام اور توضیح المرام اور