حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 137
حیات احمد ۱۳۷ (۱) ایک ضروری حاشیہ یا تکملہ جلد دوم حصہ دوم حیات احمد کے صفحہ ۹۵ پر اگنی ہوتری بانی دیو سماج کے متعلق بعض حالات دئے گئے ہیں کہ اگنی ہوتری نے حضرت کو ایک خط لکھا اور اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت اس کی اطلاع آپ کو دے دی اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل کا بیان بطور تتمہ بیان لکھ دیا جاتا ہے۔پنڈت اگنی ہوتری نے حضرت اقدس کو اپنے اس ارادہ سے اطلاع دی تھی کہ میں حصہ سوم کا ☆ رڈ لکھنا چاہتا ہوں اس نشان کا ذکر صفحہ ۵ میں کیا گیا ہے مزید تقویت اور شہادت کے لئے میں یہ لکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ انہیں ایام میں آپ نے اپنے دوستوں کو اس واقعہ کی اطلاع دے دی تھی چنانچہ ۳۰ / مارچ ۱۸۸۳ء کو آپ نے میر عباس علی صاحب کے نام ایک مکتوب میں لکھا کہ پنڈت شو ناراین نے جو برہمو سماج کا ایک منتخب معلم ہے لاہور سے میری طرف ایک خط لکھا کہ میں حصہ سیوم کا رڈ لکھنا چاہتا ہوں۔ابھی وہ خط اس جگہ نہیں پہنچا تھا کہ خدا نے بطور مکاشفات مضمون اُس خط کا ظاہر کر دیا۔چنانچہ کئی ہندوؤں کو بتلایا گیا اور شام کو ایک ہندوہی جو آریہ ہے ڈاک خانہ بھیجا گیا تا گواہ رہے۔وہی ہندواس خط کو ڈاک خانہ سے لایا پھر میں نے پنڈت شونار این کو لکھا کہ جس الہام کا تم رڈ لکھنا چاہتے ہو خدا نے اُسی کے ذریعہ سے تمہارے خط کی اطلاع دی اور اُس کے مضمون سے مطلع کیا۔اگر تم کو شک ہے تو خود قادیان میں آ کر اس کی تصدیق کر لو کیونکہ تمہارے ہندو بھائی اس کے گواہ ہیں۔رڈ لکھنے میں بہت سی تکلیف ہوگی اور اس طرح جلدی فیصلہ ہو جائے گا۔میں نے یہ بھی لکھا کہ اگر تم صدق دل سے بحث کرتے ہو تو تمہیں اس جگہ ضرور آنا چاہئے کہ اس جگہ خود اپنے بھائیوں کی شہادت سے حق الامر تم پر کھل جائے گا لیکن باوجود ان سب تاکیدوں کے پنڈت صاحب نے کچھ جواب نہ لکھا اور اس بارے میں دم بھی نہ مارا اور وہ الہام پورا ہوا جو حصہ سوم میں چھپ چکا ہے۔سَنُلْقِي فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ۔مکتوبات احمد یہ جلد اصفحہ ۷،۶۔مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۵۱۶،۵۱۵ مطبوعه ۲۰۰۸ء) موجودہ صفحه ۲۶،۱۲۵ احیات احمد جلد دوم نمبر اوّل