حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 136
حیات احمد جلد دوم حصہ دوم خادمِ دین ہوں اور اس سلسلہ کے حقیقی وفادار اور مخلص ہوں۔آمین ) بھی اس پر فخر کریں گی کہ مجھے اس تالیف کی توفیق ملی۔اس کا اعتراف کیا گیا ہے حضرت خلیفہ اسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے حضرت مسیح موعود کی ایک مختصر سی لائف لکھی ہے اس میں اس خاکسار کو سلسلہ کا مؤرخ تحریر فرمایا اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سَلَّمَهُ اللهُ الأحد نے اپنی سیرت المہدی (جس میں روایات کے ذریعہ سوانح کو محفوظ کیا جارہا ہے ) روایت نمبر ۷۷ صفحہ ۱۹۳ میں لکھا ہے کہ :۔(۴) " حیات النبی مصنفہ شیخ یعقوب علی صاحب تراب عرفانی۔شیخ صاحب موصوف پرانے احمدی اور سلسلہ کے خاص آدمیوں میں سے ہیں۔مہاجر ہیں اور کئی سال حضرت صاحب کی صحبت اٹھائی ہے۔ان کے اخبار الحکم میں سلسلہ کی تاریخ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سوانح اور سیرت کا کافی ذخیرہ موجود ہے۔شیخ صاحب کو شروع سے ہی تاریخ سلسلہ کے محفوظ رکھنے اور جمع کرنے کا شوق رہا ہے اور دراصل صرف حیات النبی (جس کا نام اب حیات احمد ہے۔عرفانی ) ہی وہ تصنیف ہے جو اس وقت تک حضرت مسیح موعود کے سوانح اور سیرت میں ایک مستقل اور مفصل تصنیف کے طور پر شروع کی گئی ہے اس کی دو جلدیں شائع ہو چکی ہیں اور قابلِ دید ہیں تاریخ تصنیف ۱۹۱۵ء ہے“۔( سیرت المہدی جلد اوّل روایت نمبر ۱۸۱ صفحه ۱۹۴ مطبوعه ۲۰۰۸ء) مسٹر والٹر ایک مسیحی نے احمد یہ موومنٹ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے اس میں بھی وہ خاکسار کی تالیف کا ذکر کرتا ہے۔غرض واقعات کو جمع کرنے میں میں نے بحمد اللہ اہتمام کیا ہے مجھے اعتراف ہے کہ بہت محنت کی ضرورت ہے جو میں نہیں کر سکا۔اس جلد نمبر دوم کے دوسرے نمبر میں بھی واقعات کا سلسلہ انہیں دس سال کے اندر محدود ہے قبل اس کے کہ میں پچھلے شائع شدہ نمبر کے سلسلہ کو شروع کروں بعض امور جو اس کی تکمیل کے لئے ضروری ہیں یہاں درج کرنا چاہتا ہوں قارئین کرام انہیں ملحوظ خاطر رکھیں (عرفانی )