حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 127 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 127

حیات احمد ۱۲۷ جلد دوم حصہ اوّل اور جب پڑھا گیا تو بلا کم و بیش وہی مضمون تھا جو میں نے بیان کیا تھا۔تب وہ آریہ لوگ نہایت حیرت میں اور تعجب میں رہ گئے۔وہ ابتک زندہ موجود ہیں اور حلف دینے سے راست راست بیان کر سکتے ہیں۔“ (حقیقة الوحی صفحه ۳۷۸ نشان ۱۷۵ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۹۳،۳۹۲) اس خط کے جواب میں آپ نے پنڈت اگنی ہوتری کولکھا " کہ جس الہام کے سلسلہ میں تم رڈ لکھنا چاہتے ہو اسی کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے ہم کو پیش از وقت تمہارے خط کے مضمون سے اطلاع دے دی ہے اگر تم چاہو تو قادیان میں آکر اپنے ہندو بھائیوں سے تصدیق کرلو“ نزول المسیح روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۲۰۶) مگر وہ اس کیلئے بھی میدان میں نہ آئے میں یہاں تاریخی مغالطہ کی اصلاح کر دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں نزول اسیح میں صفحہ ۲۲۸ پر پیشینگوئی نمبر ۱۰۷ کے ضمن میں اس کی تاریخ قریباً ۱۸۸۷ء چھپی ہے۔یہ تاریخ چھاپہ کی غلطی سے چھپ گئی ہے اس لئے کہ پیشینگوئی میں صاف ظاہر ہے کہ اس نے حصہ سوم براہین احمدیہ کا رد لکھنا چاہا اور یہ سلسلہ جنوری ۱۸۸۳ء میں دھرم جیون“ اخبار میں شائع ہوا تھا۔اس لئے یہ ۱۸۸۳ء کا واقعہ ہے۔رجوع خلائق۔اہالیان لودھانہ کی دعوت۔خواہش بیعت اور حضور کا انکار براہین احمدیہ کا حصہ سوم شائع ہو چکا تھا۔اور اب آپ کی شہرت قادیان سے باہر نکل چکی تھی اور جیسا کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو بشارات دی تھیں لوگوں کا رجوع بھی ہور ہا تھا مگر آپ فطرتاً خلوت ہی کو پسند کرتے تھے۔لوگوں میں عقیدت و ارادت بڑھ رہی تھی لودھانہ خصوصیت سے اس کا مرکز ہو رہا تھا۔میر عباس علی صاحب براہین احمدیہ کی اعانت واشاعت کے سلسلہ میں