حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 128 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 128

حیات احمد ۱۲۸ جلد دوم حصہ اوّل آپ کے کمالات اور خوبیوں کا ذکر کرتے تھے اور اس طرح پر ایک مختصر سی جماعت ایسی پیدا ہو گئی تھی جو حضرت اقدس کے ساتھ اپنی ارادت میں ترقی کر رہی تھی۔ان میں مولوی عبد القادر صاحب اور قاضی خواجہ علی صاحب رضی اللہ عنہما پیش پیش تھے۔حضرت منشی احمد جان صاحب رضی اللہ عنہ پر بھی اثر تھا۔پھر اسی جماعت میں نواب محمد علی خاں صاحب آف جھجھر کا اضافہ ہوا۔غرض یہ جماعت يَوْمًا فَيَوْمًا بڑھ رہی تھی میر عباس علی صاحب لوگوں کی اس ارادت اور شوق کو دیکھ کر خوش ہو رہے تھے اور بار بار حضرت کو لودھیانہ آنے کے لئے لکھ رہے تھے۔حضرت صاحب باوجود بار بار ارادہ کرنے کے رُک جاتے تھے۔چنانچہ ۱۸ / جنوری ۱۸۸۴ء کو آپ نے میر عباس علی صاحب کو اسی دعوت کے جواب میں لکھا۔آں مخدوم کا عنایت نامہ پہنچا یہ عاجز اگر چہ بہت چاہتا ہے کہ آں مخدوم کے بار بار لکھنے کی تعمیل کرے مگر کچھ خدا وند کریم ہی کی طرف سے ایسے ایسے اسباب آ پڑتے ہیں کہ رُک جاتا ہوں۔نہیں معلوم حضرت احدیت کی کیا مرضی ہے۔عاجز بندہ بغیر اس کی مشیت کے قدم نہیں اٹھا سکتا۔“ پھر لوگوں کی ارادت و عقیدت کے متعلق تحریر فرمایا کہ :- لوگوں کے شوق و ارادت پر آپ خوش نہ ہوں حقیقی شوق اور ارادت کہ جو لغزش اور ابتلا کے مقابلہ پر کچھ ٹھہر سکے لاکھوں میں سے کسی ایک کو ہوتی ہے ورنہ اکثر لوگوں کے دل تھوڑی تھوڑی بات میں بدظنی کی طرف جھک جاتے ہیں اور پھر پہلے حال سے پچھلا حال اُن کا بدتر ہو جاتا ہے۔“ لو د ہانہ میں جو جماعت پیدا ہو رہی تھی وہ اس امر پر بھی زور دے رہی تھی کہ آپ بیعت لیں اور اس غرض کے لئے لوگ قادیان جانے کو بھی تیار تھے۔میر عباس علی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کا نام نواب علی محمد خان صاحب آف جھجھر تحریر فرمایا ہے ملاحظہ ہو مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر پنجم صفحه۲۲ مرتبه شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی (ناشر)