حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 126 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 126

حیات احمد ۱۲۶ جلد دوم حصہ اوّل بغض اور عداوت ذاتی کے اور کونسی وجہ ہے جو پنڈت صاحب کو حق کے قبول کرنے سے روکتی ہے؟“ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد اصفحه ۳۸۱،۳۸۰ حاشیہ نمبر۱۱) عجیب بات یہ ہے کہ حضرت اقدس نے پنڈت سیتا نند کو یہ دعوت دی تھی کہ وہ میری صحبت میں رہ کر اس صداقت کا معائنہ کریں مگر وہ اس میدان میں نہ اترے اللہ تعالیٰ نے ایک اور رنگ میں اس کو پورا کر دیا۔اگنی ہوتری جی کے خط کی قبل از وقت اطلاع الہام الہی سے پنڈت جی براہین احمدیہ حصہ سوم کا ر ڈ لکھنا چاہتے تھے اس کے متعلق انہوں نے حضرت اقدس کو ایک خط لکھا۔قبل اس کے کہ وہ خط حضرت اقدس کو پہنچتا اور آپ اس کے مضمون سے واقف ہوتے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بذریعہ الہام اس خط سے آگاہ کر دیا اور حضرت نے قادیان کے آریوں کو جو علی العموم آپ کے پاس آمد و رفت رکھتے تھے اس کے مضمون سے واقف کر دیا اور اسی طرح ظہور میں آیا۔خود حضرت اقدس اس کے متعلق لکھتے ہیں کہ :- ایک دفعہ پنڈت شو نرائن اگنی ہوتری صاحب ایڈیٹر رسالہ ”برادر ہند کا ایک خط لاہور سے آنے والا تھا جس میں انہوں نے یہ لکھا تھا کہ میں براہین احمدیہ کے تیسرے حصہ کا رڈلکھوں گا جس میں الہام ہیں اور ایسا اتفاق ہوا کہ خدا تعالیٰ نے اس خط کے پہنچنے سے پہلے اُسی دن بلکہ اُسی ساعت جبکہ وہ لاہور میں اپنا خط لکھ رہے تھے مجھ کو اس خط سے بذریعہ کشف اطلاع دیدی اور کشفی طور پر وہ خط میرے سامنے آ گیا اور میں نے اُس کو پڑھا۔اُس وقت اُن آریوں کو جن کا کئی دفعہ ذکر آچکا ہے اُس خط کے مضمون سے اُسی دن خط آنے سے پہلے مطلع کر دیا اور دوسرے دن اُن میں سے ایک آریہ ڈاکخانہ میں خط لینے کو گیا اور اُس کے روبرو ڈاکخانہ کے تھیلہ سے وہ خط نکلا