حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 125
حیات احمد ۱۲۵ جلد دوم حصہ اوّل میں بحث کی ہے۔اور اس بحث کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے دو رجسٹر ڈ خطوط بھی پنڈت صاحب کو بھیجے تھے چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ :- اگر پنڈت صاحب حق جو و حق گو ہو کر بحث کرتے تو ان کے لئے بجز اس کے اور کوئی طریق نہ تھا کہ وہ ہمارے دلائل کو توڑ کر دکھلاتے اور جو کچھ ہم نے ثبوت ضرورتِ الہام و ثبوتِ وجود الہام اپنی کتاب میں دیا ہے اُس ثبوت کو اپنے دلائل بالمقابل سے معدوم اور مرتفع کرتے مگر پنڈت صاحب کو خوب معلوم ہے کہ اس عاجز نے دو مرتبہ علی التواتر دو خط رجسٹر کر اکر اس غرض سے اُن کی خدمت میں بھیجے کہ اگر اُن کو اس عادت الہی میں کچھ تر و د در پیش ہے کہ وہ ضرور بعض بندوں سے مکالمات و مخاطبات کرتا ہے اور ان کو ایسی خبروں اور ایسے علموں سے ایک خاص کلام کے ذریعہ سے مطلع فرماتا ہے کہ جن کی شان عظیم تک وہ خیالات نہیں پہنچ سکتے کہ جن کا منشاء اور منبع صرف انسان کے تخیلات محدودہ ہیں تو چند روز صدق اور صبر سے وہ اس عاجز کے پاس ٹھہر کر اس صداقت کو جو اُن کی نظر میں ممتنع اور محال ہے اور خلاف قوانین نیچر ہے بچشم خود دیکھ لیں اور پھر صادقوں کی طرح وہ راہ اختیار کریں جس کا اختیار کرنا صادق آدمی کے صدق کی شرط اور اس کی صاف باطنی کی علامت ہے۔مگر افسوس کہ پنڈت صاحب نے باوجود سنیاس دھارنے کے اس امر کو جو حقیقی سنیاس کی پہلی نشانی ہے سچے طالبوں کی طرح قبول نہیں کیا بلکہ اس کے جواب میں قرآن شریف کی نسبت بعض کلمات اپنے خط میں ایسے لکھے کہ جو ایک سچے خدا ترس کی قلم سے ہرگز نہیں نکل سکتے۔معلوم ہوتا ہے کہ پنڈت صاحب کو صداقتِ حقانی سے صرف انکار ہی نہیں بلکہ عداوت بھی ہے ورنہ جس حالت میں تــحــقـق وجود کلمات اللہ پر عقلی اور مشہودی طور پر ایک بھارا ثبوت دیا گیا ہے اور ہر طرح کے وساوس کی بیخ کنی کر دی گئی ہے اور ہر ایک قسم کی تشفی اور تسلی کے لئے یہ عاجز ہر وقت مستعد کھڑا ہے تو پھر بجز